مسئلہ:
مسلمانوں کا اہلِ ہنود کو مسجدوں میں لانا، ان سے لیکچر دلوانا، تقریر کروانا، اور وہاں اس کا سننا اور سنانا، خصوصاً جبکہ وہ لیکچر و تقریر مسلمانوں اور اسلام کی تائید وموافقت میں ہو، جائز ہے، کیوں کہ یہ امدادِ غیبی ہے جو اللہ تعالیٰ کفار کے ذریعہ مسلمانوں اور اسلام کو پہنچا رہا ہے، اور جیسے فاجر آدمی سے دین کی تائید ہوسکتی ہے کافر سے بھی ہوسکتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” صحیح البخاری “ : قال رسول الله ﷺ: ” وإن الله لیؤید هذا الدین بالرجل الفاجر“۔
(۹۷۷/۲، کتاب القدر، باب العمل بالخواتیم، فتح الباری لإبن حجر العسقلانی:۵۵۴/۱۱، رقم الحدیث: ۶۶۰۶، المکتبة شیخ الهند بدیوبند)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وجاز دخول الذمي مسجداً مطلقاً۔ (۵۵۵/۹ ، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر)
(فتاوی دارالعلوم: ۱۹۰/۱۴)
