مسلم ممبران کا دستور سے وفاداری کا حلف اٹھانا

مسئلہ:

جو لوگ قانون ساز اداروں کے رکن منتخب ہوتے ہیں ، جب انہیں حلف دلایا جاتا ہے اس وقت حلف میں دستور کی تمام دفعات تفصیلاً مذکور نہیں ہوتیں، بلکہ اجمالی طور پر دستور سے وفاداری کاحلف دلایا جاتا ہے، تو مسلم ممبر کو چاہیے کہ وہ حلف اٹھاتے وقت اپنے دل میں انہی دفعات کے ساتھ وفاداری کی نیت(توریہ) کرے، جو موافق شر ع ہیں، نہ کہ ان دفعات کی جو شریعت کے خلاف ہیں، اس طرح حلف اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

الحجة علی ماقلنا :

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : التوریة: من ورّی؛ إرادة المتکلم بکلامه أمرا خفیا غیر الظاهر منه(Dissimulation)۔(ص:۱۵۱،الموسوعة الفقهیة:۲۴۸/۱۲، تعریض)

ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: ” لم یکذب إبراهیم علیه السلام إلا ثلاث کذبات : ثنتین منهنّ في ذات الله عزّ وجلّ ، قوله: ﴿إني سقیم﴾ (الصافات: ۸۹) وقوله: ﴿بل فعله کبیرهم هذا﴾ (الأنبیاء: ۶۳) وقال: بینا هو ذاتَ یوم وسارةُ، إذ أتی علی جبّار من الجبابرة فقیل له:إن هاهنا رجلا معه امرأة من أحسن الناس، فأرسل إلیه فسأله عنها، فقال: من هذه؟ قال: أختي، فأتی سارةَ، قال: یا سارةُ لیس علی وجه الأرض موٴمن غیري وغیرَکِ، وإن هذا سألني فأخبرته أنک أختي فلا تُکذِّبیني ۔ ال ۔الحدیث ۔

(ص:۵۹۷، رقم الحدیث: ۳۳۵۸، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول الله تعالی: ﴿واتخذوا إبراهیم خلیلا﴾ (النساء:۱۲۵)، احیاء التراث العربي بیروت، الصحیح لمسلم: ۴۵۸/۷، کتاب الفضائل، باب من فضائل إبراهیم الخلیل ﷺ، رقم الحدیث: ۶۰۹۷، ۲۳۷۱، بیروت، عمدة القاري:۳۸۳/۱۳، رقم الحدیث: ۲۶۹۲، ریاض الصالحین:ص/۲۴۸، باب بیان ما یجوز من الکذب، ط: دار القاسم الریاض، شرح مسلم للنووي:۲۰۸/۸-۲۰۹، رقم الحدیث:۲۶۰۵، تکملة فتح الملهم:۳۲۲/۱۱، رقم الحدیث:۶۵۷۶-۲۶۰۵، تفسیر المظهري: ۱۳۳/۶-۱۳۴، سورة الأنبیاء، الآیة/۶۳، معارف القرآن:۱۹۷/۶-۲۰۱)

ما في ” معارف القرآن “ : ”مصالح دینیہ کے لیے توریہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔“

(مستفاد از معارف القرآن مفتی شفیع رحمہ اللہ:۱۹۷/۶-۲۰۱،حاشیة ابن عابدین :۲۵۳/۸، باب الولی ، قسم الأحوال الشخصیة،نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے:ص/۱۳۶،بائیسواں فقہی سمینار ”امروہہ یوپی“ بتاریخ : ۲۵- ۲۷ / ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ مطابق ۹- ۱۱ / مارچ ۲۰۱۳ء)

اوپر تک سکرول کریں۔