مصنوعی بال والے کے لیے احرام سے نکلنے کی صورت

مسئلہ:

حالتِ احرام سے نکلنے پر مَردوں کے لیے اگرچہ حلق یعنی اُسترے سے بالوں کا مونڈھنا اور صاف کرنا افضل ہے، تاہم اگر کسی شخص نے اپنے سر پر مصنوعی بال لگوائے ہو، تو وہ بجائے صاف کرنے کے صرف قصر کرلے، اِس طور پر کہ پورے سر کے بالوں کو قینچی سے چھوٹا کروالے، تو اس کی بھی ا جازت ہے، اور اگر مصنوعی بال والا حصہ بمقابلہ چوتھائی سر کے برابر یا اس سے کم ہو، تو اس صورت میں اس حصہ کے علاوہ بقیہ سر کے بال مونڈھالے، یا چھوٹے کروالے، تو اس صورت میں بھی وہ احرام سے نکل جائیگا، مگر اس کا یہ عمل کراہت سے خالی نہیں، اس لیے پہلی دو صورتوں (پورے بالوں کا حلق کرنا، یا پورے بالوں کو قینچی وغیرہ سے چھوٹا کروانا) میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : قوله: (وحلقه أفضل) أي هو مسنون، وهذا في حق الرجل، ویکره للمرأة ۔۔۔۔ وأشار إلی أنه لو اقتصر علی حلق الربع جاز کما في التقصیر، لکن مع الکراهة لترکه السنة، فإن السنة حلق جمیع الرأس أو تقصیر جمیعه کما في شرح اللباب والقهستاني۔ (۵۳۵/۳، کتاب الحج، مطلب في رمي جمرة العقبة)

ما في ” بدائع الصنائع “ : فأما الحلق فالأفضل حلق جمیع الرأس لقوله عزوجل: ﴿محلّقین رءوسکم﴾ ۔ والرأس اسم للجمیع، وکذا روی – أن رسول الله ﷺ حلق جمیع رأسه – ۔۔۔۔ ولو حلق بعض الرأس فإن حلق أقل من الربع لم یجزه، وإن حلق ربع الرأس أجزأه ویکره ۔۔۔۔۔ فلأن المسنون هو حلق جمیع الرأس لما ذکرنا ، وترک المسنون مکروه ۔ (۳۳۰/۲، کتاب الحج، فصل وأما الحلق أو القصر)

ما في ” الهندیة “ : ثم یحلق أو یقصر والحلق أفضل ۔ کذا في شرح الطحاوي ۔(۲۳۱/۱، الباب الخامس في کیفیة أداء الحج)

(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۹۸، ۱۳۸)

اوپر تک سکرول کریں۔