مضاربت(Speculation) میں نقصان ہو تو ضامن کون؟

(فتویٰ نمبر: ۶)

سوال:

دو شخص ہیں زید اور بکر، زید نے بکر سے کہا کہ میں رقم دیتا ہوں، تو تجارت کر، جو بھی نفع ہوگا وہ ہم دونوں کے درمیان مشترک ہوگا، اور بکر کا اس تجارت میں ایک روپیہ بھی نہیں ہے، یعنی پوری رقم زید کی ہے اور محنت صر ف بکر کی ہے،محنت میں زید کا کوئی دخل نہیں، اب تجارت میں بجائے نفع کے نقصان ہو ا،تو اس نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ زید یا بکر،یا زید اور بکر دونوں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں زید وبکر نے جو معاملہ کیا اُسے فقہا عقدِ ِمضاربت (Speculation Contract)کہتے ہیں، اگر عقدِ مضاربت میں نقصان ہو، تو یہ نقصان نفع میں محسوب ہوتا ہے، اور نفع سے زائد ہونے کی صورت میں رأس المال(Capital) میں محسوب ہوتا ہے؛ اس لیے بکر نقصان کا ضامن نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ امین ہے اور امین پر بلا تعدی (بغیر زیادتی کے) ضمان واجب نہیں ہوتا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وما هلک من مال المضاربة یصرف إلی الربح ؛ لأنه تبع ، فإن زاد الهالک علی الربح لم یضمن ولو فاسدة من عمله ؛ لأنه أمین ۔ (درمختار) ۔ (۴۹۰/۴)

(تبیین الحقائق : ۵۴۵/۵ ، البحر الرائق : ۳۸۶/۷ ، هدایه :۲۶۶/۳) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۱/۲۵ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۸/۱۱/۲۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔