مطلقہ بائنہ کو ہمدردی کی بنا پر نفقہ دینا

مسئلہ:

اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور وہ عدت گزار کر اس کے نکاح سے باہر ہوگئی، اب وہ عورت پریشان حال ہے، اس کے کھانے پینے، کپڑے لَتّے اور رہنے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے، نیز اس نے دوسرا نکاح بھی نہیں کیا، کہ ان چیزوں کا انتظام ہوجاتا، شوہر اول کو اُس کی اس کس مپُرسی اور پریشان حالی کو دیکھ کر اس پر ترس آرہا ہو، اور وہ دوبارہ اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا، مگر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کا تعاوُن کرنا چاہتا ہو، تو اس کے لیے یہ تعاون ومدد کرنا جائز ودرست ہے(۱)، مگر اتنا خیال رہے کہ پردہ پورا رہے اور سامنا نہ ہو(۲)، نیزتنہائی بھی نہ ہو۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال النبي ﷺ: ” الساعي علی الأرملة والمسکین کالمجاهد في سبیل الله، أو القائم اللیل والصائم النهار “۔

(۸۰۵/۲ ، کتاب النفقات، باب فضل النفقة علی الأهل، رقم:۵۳۵۳)

(۲) ما في ” البحر الرائق “ : والأصل في هذا أن المرأة عورة مستورة لقوله علیه السلام: ”المرأة عورة مستورة“ إلا ما استثناه الشرع وهما عضوان۔

(۳۵۱/۸ ، کتاب الکراهیة، فصل في النظر والمسّ ، تبیین الحقائق:۳۹/۷، کتاب الکراهیة، فصل في النظر والمسّ)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : في الأشباه: الخلوة بالأجنبیة حرام۔(۵۲۹/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمسّ)

(فتاویٰ محمودیہ:۴۰۰/۶، مکتبہ محمودیہ میرٹھ)

اوپر تک سکرول کریں۔