مسئلہ:
معتدہ عورت کا دوسرے مکان میں یا ایسے صحن میں جو ملک کے اعتبار سے مشترک ہو، جانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس عورت کے شوہر کی ملک میں ایسا مکان ہو، جو چند کمروں اور صحن پر مشتمل ہو، تو معتدہ کیلئے جائز ہوگا، جس کمرے میں چاہے جا سکتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا تخرج معتدة رجعی وبائن لو حرة مکلفة من بیتها أصلاً لا لیلاً ولا نهاراً ولا إلی صحن دار فیها منازل لغیره ولو بإذنه لأنه حق الله تعالی ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی تحت قوله: (فیها منازل لغیره) أی غیر الزوج، بخلاف ما إذا کانت له، فإن لها أن تخرج إلیها وتبیت فی أی منزل شاء ت، لأنها تضاف إلیها بالسکنی۔ (۲۲۳/۵۔۲۲۴، کتاب الطلاق، باب الحداد)
ما فی ” الهندیة “ : للمعتدة أن تخرج من بیتها إلی صحن الدار وتبیت فی أی منزل شاء ت إلا أن یکون فی الدار منازل لغیره، فلا تخرج من بیتها إلی تلک المنازل۔
(۵۳۵/۱، الباب الرابع عشر فی الحداد)
(احسن الفتاوی : ۴۴۱/۵)
