مغربی طرز کے بیت الخلاء میں کھڑے ہوکر پیشاب

مسئلہ:

بس اسٹیشنوں، ریلوے اسٹیشنوں، ایئر پورٹوں، بڑے بڑے مول (Mall) اور کمپنیوں میں؛ ملازمین اور عام آمد ورفت کرنے والوں کے لیے مغربی طرز (Western Styl)کے بیت الخلاء بنے ہوتے ہیں، جن کو مسلم غیر مسلم – ہر طرح کے لوگ استعمال کرتے ہیں، مسلم کے لیے اُن کا استعمال ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ بیٹھ کر پیشاب کریں، تو کپڑوں کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے، اور کھڑے ہوکر پیشاب کریں ، تو یہ مکروہِ تنزیہی ہے، اِس صورتِ حال میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر کپڑوں کو نجاست سے بچانا مشکل ودُشوار ہو، تو کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی گنجایش ہے، ورنہ بیٹھ کرہی پیشاب کریں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” سنن أبی داود “ : عن حذیفة قال: ” أتی رسول الله ﷺ سُباطة قوم فبال قائمًا ثم دعا بماء فمسح علی خفیه “۔ (ص:۴)

ما في ” بذل المجهود “ : ” فبال قائمًا “ اختلف العلماء في البول قائمًا ۔۔۔۔۔ وقال عامة العلماء: البول قائمًا مکروه إلا لعذر وهي کراهة تنزیه لا تحریم، وهو مذهبنا الحنفیة۔

(۲۴۷/۱، ط: دار البشائر الإسلامیة)

ما في ” الدر مع الرد “ : وکذا یکره ۔۔۔۔ وأن یبول قائمًا ۔ در ۔ وفي الشامیة: أن یبول قائمًا ۔۔۔۔ فلذا قال العلماء: یکره إلا لعذر، وهي کراهة تنزیه لا تحریم۔

(۵۵۷/۱، ط: بیروت)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۰۷۰۶)

اوپر تک سکرول کریں۔