(فتویٰ نمبر: ۸۶)
سوال:
ہماری بہن کے ہمارے خالہ زاد بھائی پر پینتیس ہزار(۳۵۰۰۰)روپے قرض ہیں، ان دونوں کا ذاتی معاملہ ہوا، کوئی تیسرا اس میں شریک نہیں تھا، اب وہی دوسری طرف ہمارے خالہ زادبھائی کے پچاس ہزار (۵۰۰۰۰)روپے قرض ہماری والدہ محترمہ پر ہیں، اب ہماری بہن اس سے اپنے پیسے مانگتی ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میں آپ کے پیسے اس وقت دوں گا جس وقت تمہاری والدہ ہمارا قرض ادا کرے گی، جب کہ حال یہ ہے کہ دونوں کا معاملہٴ لین دین بالکل الگ الگ ہوا تھا، تو ہمارے خالہ زاد بھائی کا اس طرح جواب دینا اور ہماری بہن کی رقم روک کر رکھنا، یہ کہاں تک صحیح ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر آپ کی ہمشیرہ نے اپنی مملوکہ رقم اپنے خالہ زاد بھائی کو بطورِ قرض دی تھی، تو وہ اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتی ہے(۱)، اور مقروض (خالہ زاد بھائی)پر اس قرض کی ادائیگی لازم اورضروری ہے،اگروہ ادائے دین پرقادر ومستطیع ہونے کے باوجودٹال مٹول اورواپسی سے انکار کرتا ہے،تو ظالم،غاصب اور سخت گنہگار ہے(۲)
ہاں! اگر اس کے پاس ادائیگیٴ قرض کے لیے روپیہ پیسہ نہیں ہے، تو مہلت لے لیں اور قرض خواہ کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ اسے مہلت دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – أن رجلاً تقاضی رسول اللّٰه ﷺ فأغلظ له ، فهم أصحابه فقال : ” دعوه ، فإن لصاحب الحق مقالاً،واشتروا له بعیرًا فأعطوه إیاه “ ۔(۳۲۳/۱ ، کتاب في الاستقراض وأداء الدیون ، باب مطل الغني ظلم)
(مشکوة المصابیح :ص/۲۵۱ ، باب الإفلاس والإنظار ، الفصل الأول)
(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” مطل الغني ظلم ، فإذا أتبع أحدکم علی ملئٍ فلیتبع “ ۔ متفق علیه ۔
(ص/۲۵۱ ، باب الإفلاس والإنظار ، الفصل الأول ، ط : قدیمي)
(صحیح البخاري :۳۲۳/۱ ، کتاب في الاستقراض وأداء الدیون ، باب مطل الغني ظلم)
(جامع الترمذي : ۲۴۴/۱ ، کتاب البیوع ، باب ما جاء في مطل الغني ظلم)
ما في ” هذا حلال وهذا حرام “ : ولکن المحرم الکبیر هو أن یوسر المدین ، أو یکون في الأصل غنیًا ولزمه حق لأحد الناس فیُماطل في السداد ، ویحاول التخلص من أداء ما وجب علیه من دین أو حق ، هذا هو الظلم المحرم ، لا سیما إذا أنکر الدین أو ادعی رده کذبًا ، أو طعن بتزویر المستندات المثبتة للدین فهو حرام فوق حرام ۔
(ص/۳۷۵ ، في المعاملات المالیة والسیاسة الدولیة ، المماطلة في قضاء الدین مع الیسار)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه – رضي اللّٰه تعالی عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” ألا ! لا تظلموا ، ألا ! لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “ ۔ (ص/۲۵۵)
ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : یجب علی المقترض أن یرد مثل المال الذي اقترضه إن کان المال مثلیًا بالاتفاق ۔
(۳۷۹۳/۵ ، الفصل الثاني ، القرض ما یجب رده علی المقترض، ط : رشیدیه کوئٹه)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وإن کان ذوعسرةٍ فنظرة إلی میسرة﴾ ۔(سورة البقرة:۲۸۰)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي الیسر قال : سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول : ”من أنظر معسرًا أو وضع عنه أظله اللّٰه في ظله “ ۔ رواه مسلم ۔ (ص/۲۵۱ ، باب الإفلاس والإنظار)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عمران بن حصین – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من کان له علی رجل حق فمن أخره کان له بکل یوم صدقة “ ۔ رواه أحمد ۔ (ص/۲۵۳، الفصل الثالث) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۴ھ
