مسئلہ:
مناظرہ میں آدابِ مناظرہ کا پاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہیں :
۱…مناظرہ کا مقصد اظہارِ حق ہو۔
۲…مناظر ایجاز واختصار اور غیر مانوس کلام سے پرہیز کرے، تاکہ فہم میں مخل نہ ہو۔
۳…کلام اتنا طویل نہ ہوکہ اکتاہٹ لازم آئے ۔
۴…ایسے الفاظ استعما ل نہ کرے جو دو معنی کا احتما ل رکھتے ہیں۔
۵…فریقِ مخالف کی بات کو پوری طرح سمجھنے سے پہلے درمیان میں کلام شروع نہ کرے ، اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو اس سے دوبارہ پوچھ لے۔
۶…اپنے مقصود سے نہ ہٹے۔
۷…ہنسی ،مذاق ، بلند آواز سے کلام اور سفاہت (بیوقوفی) سے پرہیز کرے، کیوں کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے جاہل لوگ اپنی جہالت کو چھپاتے ہیں ۔
۸…بارعب اور محترم شخصیت مثلاً استاذ سے مناظرہ نہ کرے ، کیوں کہ رعب اور احترام بسا اوقات مناظر کی دقتِ نظری اور حِدتِ ذہنی کو زائل کر دیتی ہے۔
۹…فریقِ مخالف کو حقیر نہ سمجھے ، کیوں کہ اس صورت میں مناظر سے ایسا کلام صادر ہوگا جس کی وجہ سے فریقِ مخالف غالب آسکتا ہے۔
۱۰…بدگوئی ، تلخ کلامی سے پرہیز کرے، ورنہ اہلِ مجلس اس سے نفرت کریں گے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الموسوعة الفقهیة الکویتیة ‘‘ : للمناظرة آداب عشرة : الأول : إرادة إظهار الحق ، قال الإمام الشافعي رحمه الله : ما ناظرت أحداً إلا وددت أن یظهر الله الحق علی یدیه ، وجاء في الشامیة : المناظرة في العلم لنصرة الحق عبادة، الثاني: أن یحترز المناظر عن الإیجاز والاختصار والکلام الأجنبي لئلایکون مخلاً بالفهم ۔ الثالث : أن یحترز عن التطویل في المقال لئلا یؤدي إلی الملال۔ الرابع : أن یحترز عن الألفاظ الغریبة في البحث ۔ الخامس : أن یحترز عن استعمال الألفاظ المحتملة لمعنیین، السادس: أن یحترز عن الدخول في کلام الخصم قبل الفهم بتمامه وإن افتقر إلی إعادته ثانیاً فلا بأس بالاستفسار عنه إذ الداخل في الکلام قبل الفهم أقبح من الاستفسار۔ السابع : أن یحترز عما لا مدخل له في المقصود بالا یلزم البعد عن المقصود ۔ الثامن : أن یحترز عن الضحک ورفع الصوت والسفاهة فإن الجهال یسترون بها جهلهم، التاسع : أن یحترز عن المناظرة مع من کان مهیباً ومحترماً کالأستاذ ، إذ مهابة الخصم واحترامه ربما تزیل دقة نظر المناظر وحدة ذهنه ۔ العاشر : أن یحترز عن أن یحسب الخصم حقیراً لئللا یصدر کلام یغلب به الخصم علیه ۔ (۷۷/۳۹،۷۸، تحفة المناظر:ص:۴۹)
(عقائد مذاهب باطله:ص۲۲)
