منڈیر پر کو ّے کے بولنے سے مہمان وغیرہ کا آنا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مکان کی منڈیر پر کوے کے بولنے سے مہمان آتے ہیں ، اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ اگر مرغ اذان دے تو اس کو فوراً ذبح کردو کیوں کہ اس سے وبا پھیلتی ہے، یہ دونوں باتیں غلط ، بے بنیاد اور توہم پرستی ہیں ، جن کا دینِ اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے ، ہمیں اس طر ح کے غلط خیالات سے بچنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {قل لن یصیبنا إلا ما کتب الله لنا هو مولٰنا وعلی الله فلیتوکل المؤمنون} ۔ (سورة التوبة:۵۱)

ما في ’’تفسیر روح المعاني‘‘: أي لن یصیبنا إلا ما حظ الله لأجلنا في اللوح ۔۔۔۔۔ فتدل الآیة علی أن الحوادث کلها بقضاء الله تعالی ۔ (۱۱۶/۶)

ما في ’’الموسوعة الفقهیة‘‘: قد اتفق أهل التوحیدعلی تحریم التطیر ونفي تأثیره في الحدوث الخیر أو الشر لما في ذلک من الإشراک بالله في تدبیر الأمور۔   (۱۸۳/۱۲)

ما في ’’مرقاة المفاتیح‘‘: من اعتقد أن شیئاً سوی الله ینفع أو یضر بالاستقلال فقد أشرک جلیاًً۔(۳۹۱/۸)

وما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {قالوا الطیرنا بک وبمن معک}۔(سورة النمل:۴۷)

ما في ’’معارج التفکر والتدبر‘‘: والتطیر هو التشاؤم بالأشیاء وبالأشخاص أو بمسموع أم مرئ أو نحو ذلک ۔ (۳۹۹/۹، القول المفید علی کتاب التوحید:۱۲/۱، باب التطیر)

اوپر تک سکرول کریں۔