مسئلہ:
نکاح سے پہلے منسوبہ کو چھپ چھپ کر دیکھنا جائز تو ہے(۱)، مگر بعض لوگوں نے اس امر جائز سے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے، کہ تنہا کمرہ میں اپنی منسوبہ سے ملاقات کرکے ہاتھ میں ہاتھ ملاکر ، دیر تک اس سے گفتگو اور خوش طبعی کرتے ہیں، اور بعض لوگ تو لڑکے اور لڑکی کو کسی جگہ ساتھ رہنے اور زندگی کا کچھ حصہ مل کر گذار نے کیلئے تجربہ کے طور پر بھیج دیتے ہیں، شرعاً یہ دونوں باتیں ناجائز وحرام ہیں(۲)، کیوں کہ نکاح سے پہلے دونوں اجنبی ہیں، اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت وتنہائی کو فقہاء کرام نے حرام قرارد یا ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: ” إذا خطب أحدکم المرأة، فإن استطاع أن ینظر إلی ما یدعوه إلی نکاحها فلیفعل “۔ رواه أبوداود ۔
(ص:۲۶۸، کتاب النکاح، باب النظر إلی المخطوبة وبیان العورات، مکتبه رشیدیه سهارنفور)
ما فی ” عون المعبود “ : قوله: (فکنت أتخبّأ) أی اختفی۔ (ص:۹۲۸)
(۲) ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا یبیتَنَّ رجلٌ عند امرأة ثیِّب إلا أن یکون ناکحاً أو ذا محرمٍ “۔
(ص:۲۶۸، کتاب النکاح، باب النظر إلی المخطوبة وبیان العورات)
ما فی ” مرقاة المفاتیح “ : والمراد من البیتوتة هنا التخلی لیلاً کان أو نهاراً۔(۲۵۲/۶، کتاب النکاح)
ما فی ” الدر المختار “ : الخلوة بالأجنبیة حرام۔ (۵۳۹/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر)
ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً إلی الأماکن العامة وغیرها کله ممنوع شرعاً۔ (۲۵/۷)
ما فی ” البحر الرائق “ : لا تسافر المرأة فوق ثلاثة أیام إلا بزواج أو محرم۔ (۱۹۴/۸)
(فتاوی محمودیه : ۴۷/۱۶)
