موبائل فون پر قرآنی آیات واحادیث کا میسج

مسئلہ:

بعض لوگ اپنے دوستوں کو موبائل فون پر قرآنی آیات اور احادیث وغیرہ میسج کرتے ہیں، اور وہ بوقت ضرورت انہیں ڈلیٹ(Delete) کردیتے ہیں، بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کو ڈلیٹ کرنے سے گناہ ہوتا ہے، ان کا یہ خیال درست نہیں ہے، کیوں کہ موبائل پر لکھے میسج کو مٹانا، کاغذ، دیوار اور کپڑے وغیرہ پر لکھی عبارت کو مٹانے کے حکم میں نہیں ہے ، علاوہ ازیں جب درودیوار پر لکھے اسم باری تعالیٰ کے مٹانے کی اجازت ہے، جس میں بے ادبی کا شائبہ بھی ہے، تو موبائل پر میسج مٹانے میں کیا حرج ہے، جب کہ اس میں اس بے ادبی کا احتمال بھی نہیں ہے، لہذا میسج کو مٹانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار “ : الکتب التی لا ینتفع بها یمحی عنها اسم الله وملائکته ورسوله، ویحرق الباقی۔ (۴۷۷/۶)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو محا لوحاً کتب فیه القرآن واستعمله فی أمر الدنیا یجوز۔(۳۷۷/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف الخ)

(فتاوی بنوریه، رقم الفتوی: ۹۰۴۵)

اوپر تک سکرول کریں۔