موبائل کی زکوة کا حکم شرعی

مسئلہ:

آج کل کمپنیاں طرح طرح کے قیمتی موبائل ایجاد کررہی ہیں، اگرکسی شخص کے پاس اپنے ذاتی استعمال کیلئے ایک یا چند موبائل ہوں، اور وہ اتنی قیمت کے ہیں کہ اتنی قیمت پر آدمی صاحب نصاب ہوجاتا ہے، تو بھی ان کی مالیت پر زکوٰة واجب نہیں ہوگی، خواہ وہ کتنے ہی قیمتی ہوں، کیوں کہ یہ اموال تجارت میں شامل نہیں ہیں، البتہ اگر کوئی شخص موبائل کی تجارت کرتا ہے اور موبائل کی مالیت بقدر نصاب ہونے کے ساتھ اس پر سال گذر جائے، تو موبائل پر اس کی مالیت کے اعتبار سے زکوٰة واجب ہوگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” فتح القدیر“ : ولیس فی دور السکنیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ وسلاح الاستعمال زکوٰة ۔۔۔۔۔۔۔ وعلی هذا کتب العلم لأهلها وآلات المحترفین۔ قوله: (وآلات المحترفین) یرید بها ما ینتفع بعینه ولا یبقی أثره فی المعمول کالصابون والحرض وغیرها کالقدور وقواریر العطار ونحوها لکون الأجر حینئذ مقابلاً بالمنفعة فلا یعد من مال التجارة۔

(۱۷۳/۲، کتاب الزکوٰة)

ما فی ” الشامیة “ : قال العلامة ابن عابدین تحت قوله: (وفارغ عن حاجته الأصلیة لأن المشغول بها کالمعدوم) وفسره ابن ملک المشغول بالحاجة الأصلیة وهی ما یدفع الهلاک عن الإنسان کالنفقة ودور السکنی وآلات الحرب، أو تقدیراً کالدین وآلات الحرفة، وظاهر قوله أن المراد من قوله: (فارغ عن حاجته الأصلیة) ما کان نصاباً من النقدین أو أحدهما فارغاً عن الصرف إلی تلک الحوائج۔ (۱۶۶/۳، مطلب فی زکوٰة ثمن المبیع وفاءً)

اوپر تک سکرول کریں۔