موت کے وقت ماں سے دودھ بخشوانا

مسئلہ:

بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ جب والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہے، تو اولاد اس کے پاس جاکر یہ کہتی ہے کہ ”امی جان آپ نے ہمیں دودھ پلایا، آپ کا ہم پر احسان ہے، ہم پر آپ کی خدمت کا جو حق تھا وہ ہم نہیں ادا کرسکے، ہمیں معاف کردیجئے“ – اس رواج کو دودھ بخشوانا کہا جاتا ہے، شرعِ اسلامی میں اس کی کوئی اصل وثبوت نہیں، یہ محض ایک رسم ہے، جس کا ترک (چھوڑنا) ضروری ہے(۱)، البتہ والدین کے انتقال سے پہلے اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کو معاف کروالینا بہتر ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” صحیح مسلم “ : عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: ” من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو ردّ “۔

(۷۷/۲، کتاب الأقضیة، باب نقض الأحکام الباطلة ورد محدثات الأمور، رقم الحدیث:۱۷۱۸، صحیح البخاری:۳۷۱/۱، کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، رقم الحدیث:۲۶۹۷، ریاض الصالحین:۶۲/۱، باب النهي عن البدع ومحدثات الأمور، رقم الحدیث:۱۶۹)

(۲) ما في ” صحیح البخاری “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” من کانت له مظلمة لأحد من عرضه أو شيء فلیتحلله منه الیوم قبل أن لا یکون دینار ولا درهم إن کان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته، وإن لم تکن له حسنات أخذ من سیئات صاحبه فحُمل علیه “۔

(۳۳۱/۱، کتاب المظالم، باب من کانت له مظلمة عند رجل فحللها له الخ، رقم الحدیث:۲۴۴۹، ریاض الصالحین:۱/۷۵، باب تحریم الظلم والأمر بردّ المظالم، رقم الحدیث:۲۱۰، ط: مکتبه فیصل دیوبند، الزواجر عن اقتراف الکبائر:۹۳۲/۴۔۹۳۳، الکبیرة الثالثة والستون بعد الأربعمائة، مسند البزار:۱۷۳/۸)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۷۳۸۰)

اوپر تک سکرول کریں۔