مسئلہ:
شرعی باندیاں وہ ہیں جو جہاد میں گرفتار کرکے مالِ غنیمت میں شامل کرلی گئی ہوں، اور امیر یعنی خلیفة المسلمین یا اس کے نائب نے ان کو دار الحرب سے اپنے اسلامی علاقہ – دار الاسلام- میں لاکر قاعدہٴ شریعت کے مطابق تقسیم کیا ہو، دار الاسلام میں لانے اور امیر کی تقسیم سے پہلے باندی کسی کے لیے حلال نہیں، حتی کہ امام المسلمین یا امیرِ لشکر نے اعلان کردیا ہو کہ جس کے قبضہ میں جو باندی آئے وہ اس کی ہے، تب بھی دار الاسلام میں لائے بغیر قبضہ کرنے والے غازی یا مجاہد کے لیے وہ حلال نہیں (۱)، آج نہ تو کوئی مُلک حقیقی معنی میں دار الاسلام ہے، اور نہ ہی خلیفة المسلمین کا کہیں وجود، نیز انجمن اقوامِ متحدہ میں شامل تمام ممالک نے آپس میں یہ معاہدہ کررکھا ہے کہ کوئی حکومت کسی انسان مرد یا عورت کو غلام یا باندی بنانے کی اجازت نہیں(۲)، اس لیے موجودہ زمانہ میں غلام باندیوں کا وجود دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے، آج کل گھروں یا کارخانوں میں جو ملازم اور نوکر رکھے جاتے ہیں، اُن کا حکم غلام باندیوں جیسا نہیں ہے، بلکہ یہ سب لوگ آزاد ہیں، ان کے اپنے الگ حقوق ہیں، جن کی پاسداری ضروری ہے، اسی طرح غریب علاقوں سے جو عورتیں خرید کر لائی جاتی ہیں، یا کہیں سے اِغوا کرکے اُن کی خرید وفروخت کی جاتی ہے، شرعاً یہ عمل حرام ہے(۳)، نیز جو خواتین بوجہ مجبوری وغربت کے دوسروں کے گھر میں جاکر اجرت پر کام کرتی ہیں،اُن کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کرنا ، بغیر نکاح کے ان کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنا ، یہ بھی ناجائز وحرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : یدخل الرقیق في ملک الإنسان بواحد من الطرق الآتیة۔ أولا: استرقاق الأسری والسبي من الأعداء الکفار، وقد استرق النبي ﷺ نساء بني قریظة وذراریهم۔ (۱۲/۲۳، رق، أسباب تملک الرقیق)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : فلو قال الإمام من أصاب جاریة فهي له، فأصابها مسلم فاستبرأها لم یحلّ له وطوٴها ولا بیعها، کما لو أخذها المتلصص ثمة واسترأها لم تحل له إجماعًا۔ (۱۹۴/۶، کتاب الجهاد، باب المغنم وقسمته، مطلب مهم في التنفیل العام بالکل أو بقدر منه، ط: دیوبند)
ما في ” الشامیة “ : ومن المعلوم في زماننا أن کل من وصلت یده من العسکر إلی شيء یأخذه ولا یعطی خمسه، فینبغي أن یکون العقد واجبًا إذا علم أنها ماخوذة من الغنیمة، ولذا قال بعض الشافعیة: إن وطء السراري اللاتي یجلبن الیوم من الروم والهند والترک حرامٌ۔
(۱۰۰/۴، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطلب مهم في وطء السراري اللاتي یوٴخذون غنیمة في زماننا)
(۲) ما في ” تکملة فتح الملهم “ تنبیه : وینبغي أن یتنبه هنا إلی شيء مهم، وهو أن أکثر أقوام العالم قد أحدثت الیوم معاهدة فیما بینها، وقررت أنها لا تسترق أسیرًا من أساری الحروب، وأکثر البلاد الإسلامیة الیوم من شرکاء هذه المعاهدة، ولا سیما أعضاء ” الأمم المتحدة “ فلا یجوز لمملکة إسلامیة الیوم أن تسترق أسیرًا ما دامت هذه المعاهدة باقیة۔(۲۷۲/۱، کتاب العتق، تنبیه في معاهدة عدم الاسترقاق فیما بین أعضاء الأممم المتحدة)
(۳) ما في ” الهدایة “ : وإذا کان أحد العوضین أو کلاهما محرما فالبیع فاسد کالبیع بالمیتة والدم والخمر والخنزیر، وکذا إذا کان غیر مملوک کالحرّ۔
(۳۳/۳ ، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، کذا في التنویر مع الدر:۲۳۵/۷-۲۳۶، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تقربوا الزنٰی إنه کان فاحشة وسآء سبیلا﴾ (بنی اسرائیل:۳۲)۔ ﴿والذین هم لفروجهم حٰفظون إلا علی أزواجهم أو ما ملکت أیمانهم فإنهم غیر ملومین فمن ابتغی ورآء ذلک فهم العٰدون﴾ ۔ (سورة المؤمنون:۵۔۷)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : والزنا وطء مکلف ناطق طائع في قبل مشتهاة خال عن ملکه أي ملک الواطيء وشبهته أي في المحل ۔ التنویر وشرحه ۔ وفي الشامیة: قال الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (خال عن ملکه) أي ملک یمینه وملک نکاحه۔ (۷/۶۔۸، کتاب الحدود، أحکام الزنا)
(فتاویٰ رحیمیہ:۲۱۰/۱۰، آپ کے مسائل اور ان کا حل:۵۵۳/۷)
