(فتویٰ نمبر: ۲۱۱)
سوال:
۱– ایک شخص اپنی گاڑی یا اور کوئی چیز بیچنا چاہتا ہے، اب وہ کسی دوسرے سے کہے کہ تم یہ چیز بیچ دو، تو میں تمہیں اتنے روپے دوں گا،تو اس بیچنے والے آدمی کے لیے اس رقم کا لینا کیسا ہے؟
۲– اگر بیچنے والا آدمی سامنے سے کسی رقم کا مطالبہ کرے تو کیسا ہے؟
۳– اگر مالک اپنی کوئی چیز کسی دوسرے شخص کو بیچنے کے لیے دے اور اس کی قیمت بھی متعین کردے، مگر اُس بیچنے والے شخص کی اُجرت ومزدوری متعین نہ کرے، اب شخصِ مذکور مالک کی مقرر کردہ قیمت سے زائد قیمت میں بیچ کر اپنا نفع حاصل کرتا ہے ، تو کیا اُس کا یہ عمل شرعاً درست ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– صورتِ مسئولہ میں بیچنے والے شخص کے لیے ا س رقم کو لینا جائز ہے، کیوں کہ یہ اس کی دلالی کی اُجرت ہے، اور دلالی کی اجرت لینا شرعاًجائز ہے۔ (۱)
۲– اگر بیچنے والا شخص سامنے سے کسی رقم کا مطالبہ کرے، تو بھی جائز ہے ،کیوں کہ دلالی کی اُجرت لینا جائز ہے۔(۲)
۳– عقدِو کالت بالاجرت کی اس صورت میں وکیل کی اُجرت متعین نہ ہونے کی وجہ سے یہ عقد فاسد ہے، اگر وکیل بیع کرتا ہے تو پوری قیمت موٴکل کی ہوگی اور وکیل اُجرتِ مثل کا حق دار ہوگا۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” المبسوط للسرخسي “ : والسمسار إسم لمن یعمل للغیر بالأجر بیعًا وشراءً ۔ (۱۲۸/۵ ، باب السمسار)
ما في ” خلاصة الفتاوی “ : وفي الأصل أجرة السمسار والمغاري والحمامي والصکاک وما لا تقدیر فیه للوقت، ولا مقدار لما یستحق بالعقد ، لکن للناس فیه حاجة جاز، وإن کان في الأصل فاسدًا ۔ (۱۱۶/۳، کتاب الإجارة ، جنس آخر في المتفرقات)
ما في ” رد المحتار “ : وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال : أرجو أنه لا بأس به، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرة التعامل، وکثیر من هذا غیر جائز، فجوزوه لحاجة الناس إلیه ۔ (۷۵/۹ ، مطلب في أجرة الدلال)
(۲) ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : تصح الوکالة بأجر وبغیر أجر ؛ لأن النبي ﷺ کان یبعث عماله لقبض الصدقات ویجعل لهم عمولة ۔
(۴۰۵۸/۵ ، الفصل التاسع ، الوکالة ، الوکالة بأجر)
ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : تکون الإجارة فاسدة بجهالة الأجرة۔(۵۱۳/۱ ، الفصل الرابع في فساد الإجارة وبطلانها)
ما في ” بدائع الصنائع “ : إن الواجب في الإجارة الفاسدة أجر المثل لا یزاد علی المسمی ۔ (۳۶/۴ ، کتاب الإجارة)
ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : الإجارة الفاسدة نافذة ویلزم فیها أجر المثل لا الأجر المسمی ۔ (۵۱۱/۱ ، الفصل الرابع في فساد الإجارة وبطلانها) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۴/۲۴ھ
