(فتویٰ نمبر:۱۴)
سوال:
۱-ایک مسلمان ہونے کے ناطے بڑے بزنس مین کوجب بڑی فیکٹری یا بڑی کمپنی پرائیویٹ لمٹیڈ کے حساب میں بزنس کرنا ہوتا ہے، تو چارو نا چار بینک سے لین دین کرنا پڑتا ہے، یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہم نے یہ سب بینک سے لون لے کر کیا ہے،ورنہ ہم اتنی بڑی رقم کہاں سے لائیں، اگر یہ ظاہر نہ کیا جائے تو فوراً ریڈ پڑتی ہے اور ظلم وستم جاری ہو جاتا ہے، تو ان صورتوں میں بینک سے لون لینا کیسا ہے؟ اور ضرورات ودفعِ مضرات کا شرعاً کیا حکم ہے ؟
۲-ایک آدمی کے پاس رہائش کے لیے کوئی مکان نہیں ہے، توکیاکم از کم چار یاپانچ لاکھ کی قیمت والا مکان خریدنے کے لیے بینک سے لون لے کر جو اشد ضرورت ہے پوری کرسکتا ہے؟ جب کہ اس کے پاس چار یا پانچ ہزار کا بیلنس بھی ہے، جس پر زکوة واجب ہے،اور اتنی قلیل رقم میں مکان خریدنا بھی مشکل ہے۔
۳-ایک آدمی بڑا مقروض ہے ،ناگہانی حادثات آنے کی وجہ سے مقروض ہوگیا، اس کے پاس کوئی ایسی ملکیت بھی نہیں جس کو بیچ کر قرضوں کو ادا کرسکے، آج کا کوئی مسلمان اس کی مدد کرنے کے لیے تیار بھی نہیں،بلکہ استحصال کرنا شروع کردیتا ہے، ایسے پیچیدہ حالات میں بینک سے لون لے کر تجارت کرنا کہ قرض کا بار بھی سر سے اتر جائے اور بال بچوں کی روزی روٹی کا بھی نظم ہوجائے، جائز ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– سود لینا دینا شرعاً حرام ہے(۱)،لیکن موجودہ قانونی حاجت (یعنی اپنا اصل مال ظاہر کرنے کی صورت میں شعبہٴ انکم ٹیکس کی ظلم وزیادتی سے بچنا) کی وجہ سے بقدرِ ضرورت بینک سے قرض لینے کی گنجائش ہے۔(۲)
۲– شخصِ مذکو ر کے پاس جب رہنے کامکان نہیں ،تو پانچ دس ہزار کا بیلنس (Balance)اس کی حوائجِ اصلیہ سے زائد نہیں ہوا، لہٰذا اس پر زکوة واجب ہی نہیں(۳)، اور وہ صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے زکوة لے کر اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ (۴)
مکان انسان کی بنیادی ضرورتوں میں داخل ہے، اس کے بغیر انسان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ بُیُوْتِکُمْ سَکَناً﴾ ۔” اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھر رہنے کی جگہ بنائی۔“ (سورة النحل : ۸۰)
لیکن کس طرح کا مکان انسانی ضرورت ہے،اس کا مدار عرف، زمانہ، علاقہ اور خود صاحبِ ضرورت کی ضرورت پرمبنی ہے، اس لیے اس کی تحدید وتصریح کتبِ فقہ میں موجود نہیں، لہٰذا ایسا مکان جو خود انسان اوراس کی بیوی بچوں کو مو سمی تکلیفوں سے بچا سکے، نیز ان کی تمام بشری ضرورتوں کی تکمیل کے لیے درکار سہولتوں سے آراستہ ہو، ضرورت میں داخل ہے، اب اس طرح کے مکان کا حصول سودی قرض لیے بغیر ممکن نہ ہو، تو بقدرِ ضرورت سودی قرض لینے کی شرعاً گنجائش ہوگی۔ (۵)
ہم نے جس طرح کے مکان کو ضرورت قرار دیا اس کی قیمت زمانہ اور علاقہ کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے ،اس لیے مقدارِ قیمت کا تعین امرِ مشکل ہے۔(۶)
۳-سودی قرض لیے بغیر شخصِ مذکور کے لیے بنیادی ضرورتیں؛ مثلاً کھانا، کپڑا اور علاج وغیرہ فراہم نہ ہوتی ہوں اورفاقہ مستی کی نوبت ہو ،تو بقدرِ ضرورت سودی قرض لینا جائز ہے۔(۷)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر بن عبد اللّٰه قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله ، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔ رواه مسلم ۔
(ص/۲۴۴ ، صحیح مسلم :۲۷/۲ ، باب الربوا)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یرید اللّٰه بکم الیسر ولا یرید بکم العسر﴾ ۔(سورة البقرة :۱۸۵)
ما في ” البحر الرائق “ : ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۔ قوله : في القنیة من الکراهیة : یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۔
(۱۸۵/۶، باب الربا،الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي:۳۲۷/۱)
وما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامةً کانت أو خاصة ۔ (۳۲۶/۱)
(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : فلیس في دور السکنی وثیاب البدن وأثاث المنازل ودواب الرکوب وعبید الخدمة وسلاح الاستعمال زکاة ، وکذا طعام أهله ویتجمل به من الأواني إذا لم یکن من الذهب والفضة ، وکذا لو اشتری فلوسًا للنفقة ۔ کذا في العیني شرح الهدایة ۔ (۱۷۳/۱)
ما في ” البحر الرائق “ : قال ابن نجیم : لو لم یکن له مسکن ولا خادم وعنده مال یبلغ ثمن ذلک ولا یبقی بعده قدر ما یحج به ، فإنه لا یجب علیه الحج ؛ لأن هذا المال مشغول بالحاجة الأصلیة ، إلیه أشار في الخلاصة ۔ اه ۔ (۴۸۹/۲)
(۴) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وکذا لو کان له حوانیت أو دار غلة تساوي ثلاثة آلاف درهم، وغلتها لا تکفي لقوته وقوت عیاله یجوز صرف الزکاة إلیه ۔ (۱۸۹/۱)
(۵) ما في ” الأشباه والنظائرلإبن نجیم “ : ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔ (۳۲۷/۱)
(البحر الرائق : ۱۸۵/۶)
وما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامةً کانت أو خاصةً ۔ (۱/ ۳۲۶)
(۶) ما في ” رد المحتار “ : قوله : اعتبارًا في السکنی بالمعروف ؛ إذ لا شک أن المعروف یختلف باختلاف الزمان والمکان ۔ (۳۲۲/۵)
(۷) ما في ” الأشباه والنظائر “ : الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامةً کانت أو خاصة ۔ (۳۲۶/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۸/۱۲/۷ھ
