مکان خالی کرنے کے عوض مالک سے رقم کا مطالبہ

مسئلہ:

بسا اوقات کوئی شخص کسی سے اس کا مکان یا دکان کرایہ پر لیتا ہے، جس میں مدتِ کرایہ داری بھی باہمی رضامندی سے طے ہوتی ہے، مثلاً معاملہ کرتے وقت یہ طے پاتا ہے کہ کرایہ داری کا یہ معاملہ صرف پانچ سال تک کے لیے ہے، اور اس کے بعد مالک کو اپنے مکان یا دکان کے خالی کرانے کا اختیار حاصل ہوگا، تو کرایہ دار پر اس معاہدہ کا پاس ولحاظ رکھنا واجب ہے، کیوں کہ معاہدہ شکنی گناہِ کبیرہ ہے، مگر عامةً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کرایہ دار اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وقت پر مکان یا دکان خالی نہیں کرتا، شرعاً اس کا یہ عمل گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہے(۱)، یا خالی کرنے پر راضی تو ہوتا ہے مگر خالی کرنے کے عوض مالک سے کسی رقم کا مطالبہ کرتا ہے اور مالک مجبوری میں اسے یہ رقم دے بھی دیتا ہے، کرایہ دار کے لیے اس رقم کا وصول کرنا حلال نہیں ہے(۲)، بلکہ مردار اور خنزیر کی طرح قطعی حرام ہے، جو شخص خدا، رسول اور آخرت کی جزا وسزا پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسی حرام خوری کا ارتکاب نہیں کرسکتا، لہٰذا اس سے بچنے کی سخت ضرورت ہے(۳)، ہاں! اگر کرایہ دار نے کرایہ داری کا معاملہ کرتے وقت مالکِ مکان یا دکان کو پگڑی کی رقم دی تھی ، تو جتنی رقم دی تھی اتنی رقم کا لینا جائز ہے(۴)، اس سے زائد لینا درست نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأوفوا بالعهد إن العهد کان مسئولا﴾۔ (سورة الإسراء: ۳۴)

ما في ” تفسیر المظهري “ : أي مطلوبًا یطلب من العاهد أن لا یضیعه ویفيء به أو مسئولا عنه فیسئل عن الناکث ویعاتب علیه۔ (۲۸۶/۵)

ما في ” روح المعاني “ : وقد جاء عن علي کرم الله وجهه أنه عدّ من الکبائر نکث الصفقة، أي الغدر بالمعاهد، بل صرح شیخ الإسلام العلائي بأنه جاء في الحدیث عن النبي ﷺ أنه سماه کبیرة، وقال بعض المحققین: إن في إطلاق کون الإخلال المذکور کبیرة نظرًا بناء علی أن العهد هو التکلیفات الشرعیة۔ (۱۰۲/۹)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔ (سورة البقرة: ۱۸۸)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : من أخذ مال غیره لا علی وجه اذن الشرع فقد أکله بالباطل۔ (۳۳۸/۲)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔

(ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني، رقم الحدیث: ۲۹۴۶)

(۳) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: ” لا یدخل الجنة لحم نبت من السحت وکل لحم نبت من السحت کانت النار أولی به “ ۔ رواه أحمد والدارمي والبیهقي في شعب الإیمان۔ (ص:۲۴۲، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثاني، رقم الحدیث: ۲۷۷۲)

(۴) ما في ” رد المحتار “ : وممن أفتی بلزوم الخلو الذي یکون بمقالة دراهم یدفعها للمتولي أو المالک العلامة المحقق عبد الرحمن آفندي العمادي صاحب هدیة ابن العمادة، وقال: فلا یملک صاحب الحانوت إخراجه ولا إجارتها لغیره ما لم یدفع له المبلغ المرقوم، فیفتی بجواز ذلک للضرورة قیاسًا علی بیع الوفاء الذي تعارفه المتأخرون احتیالا علی الربا الخ۔ (۳۰/۷، کتاب البیوع، مطلب في الکَدَک)

(فتاویٰ رحیمیہ : ۲۷۴/۹ -۲۸۷، آپ کے مسائل اور ان کا حل : ۱۶۸/۷، جدید)

اوپر تک سکرول کریں۔