میت پر سوگ اور تعزیت کا حکم شرعی کیا ہے؟

مسئلہ:

شوہر کے سوا کسی دوسرے کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے،(۱) اسی طرح تعزیت کی شرعی مدت تین دن ہے، البتہ جو شخص بر وقت حاضر نہ ہوسکا اوربعد میں آیا تو وہ تین دن گذر جانے کے بعد بھی تعزیت کرسکتا ہے، بار بار تعزیت کرنا مکروہ ہے، کہ اس میں ورثاء کے غم کو تازہ کرنا ہے، بعض علاقوں میں لوگ چالیس دن تک تعزیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، اور چالیس دن مکمل ہونے پر ہی یہ سلسلہ بند ہوتا ہے، جسے ”میت کا بستر اٹھانا“ کی رسم سے جانا جاتا ہے، شرعاً یہ رسم غلط ، بے بنیاد اور قابلِ ترک ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الصحیح للبخاری “ : عن زینب بنت أبی سلمة قالت : دخلت علی أم حبیبة زوج النبی ﷺ فقالت: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” لا یحل لإمرأة توٴمن بالله والیوم الآخر أن تحد علی میتٍ فوق ثلث إلا علی زوج أربعة أشهر وعشراً “۔ ثم دخلت علی زینب بنت جحش حین توفی أخوها فدعت بطیب فشمت به ثم قالت: ما لي بالطیب من حاجةٍ غیر أنی سمعت رسول الله ﷺ: ” لا یحل لإمرأة تؤمن بالله والیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلث إلا علی زوج أربعة أشهر وعشراً “۔

(۱۷۱/۱، کتاب الجنائز، باب احداد المرأة علی غیر زوجها، الصحیح لمسلم: ۴۸۶/۱، کتاب الطلاق، باب وجوب الاحداد فی عدة الوفاة، مشکوٰة المصابیح: ص:۲۸۸۔۲۸۹، باب العدة، الفصل الأول)

(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وبالجلوس لها فی غیر مسجد ثلاثة أیام، وأولها أفضل، وتکره بعدها إلا لغائب، وتکره التعزیة ثانیاً ۔ الدر المختار۔ قال الشامی: وتکره بعدها لأنها تجدد الحزن ۔۔۔۔۔ لا ینبغی لمن عزی مرة أن یغزی مرة أخری۔(۱۳۹/۳۔۱۴۰، باب صلاة الجنازة، مطلب فی کراهة الضیافة من أهل المیت)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : جمهور الفقهاء علی أن مدة التعزیة ثلاثة أیام، واستدلوا لذلک بإذن الشارع فی الاحداد فی الثلاث فقط، بقوله ﷺ: ” لا یحل لإمرأة توٴمن بالله “ الحدیث۔۔۔۔۔وتکره بعدها، لأن المقصود منها سکون قلب المصاب، والغالب سکونه بعد الثلاثة، فلا یجدد له الحزن بالتعزیة، إلا إذا کان أحدهما (المعز أو المعزیٰ) غائباً، فلم یحضر إلا بعد الثلاثة، فإنه یعزیه بعد الثلاثة۔(۲۸۸/۱۲، تعزیة)

(فتاوی دارالعلوم : ۵/۴۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔