مسئلہ:
غسل کے لیے مُردے کو تختہ پر رکھنے کی فقہاء کرام نے دو صورتیں بیان فرمائی ہیں: ایک تو قبلہ کی طرف پاوٴں کرکے لٹانا، دوسرے قبلہ کی طرف منہ کرنا، جیسے کہ قبر میں رکھتے ہیں، دونوں میں سے جگہ کی سہولت کے مطابق جو صورت اختیار کرلی جائے جائز ہے، مگر زیادہ بہتر دوسری صورت ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ویوضع کما مات تیسر في الأصح علی سریر مجمر وترًا ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (في الأصح) وقیل یوضع إلی القبلة طولا، وقیل عرضًا کما في القبر، أفاده في البحر۔ (۸۴/۳۔۸۵، باب صلاة الجنائز، مطلب في القراءة عند المیت)
ما في ” البحر الرائق “ : وفي الظهیریة: وکیفیة الوضع عند بعض أصحابنا الوضع طولا کما في حالة المرض إذا أراد الصلاة بإیماء، ومنهم من اختار الوضع عرضًا کما یوضع في القبر، والأصح أنه یوضع کما تیسر۔ (۳۰۰/۲، کتاب الجنائز، الفتاوی الهندیة:۱۵۸/۱، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث في الغسل)
ما في ” بدائع الصنائع “ : ثم لم یذکر في ظاهر الروایة کیفیة وضع التخت انه یوضع إلی القبلة طولا أو عرضًا؟ ومنهم من اختار الوضع عرضًا کما یوضع في قبره والأصح أنه یوضع کما تیسر، لأن ذلک یختلف باختلاف المواضع۔
(۳۰۸/۲، فصل في کیفیة غسل المیت، تبیین الحقائق:۵۶۲/۱، کتاب الصلاة، باب الجنائز، المبسوط للسرخسي:۹۱/۲، کتاب الصلاة، باب غسل المیت)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل :۲۸۹/۴، جدید، فتاویٰ محمودیہ: ۴۹۰/۸)
