مسئلہ:
اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے، اور اس کی آنکھوں میں کونٹیک لینس ہے، تو چوں کہ وہ لینس دوسرے کے لیے استعمال نہیں کرسکتے، اور آنکھوں سے نکالنے میں بھی دِقّت ہے، اور یہ ایک زائد چیز بھی معلوم نہیں ہوتی، لہٰذا میت کی آنکھوں سے نہیں نکالنا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الشامیة “ : وإن کان حرمة الآدمي أعلی من صیانة المال لکنه أزال احترامه بتعدّیه کما في الفتح۔ ومفاده أنه لو سقط في جوفه بلا تعدّ لا یشقّ اتفاقًا۔ والله اعلم۔
(۲۳۸/۲، ط: مکتبه سعید کراچی و دار الفکر بیروت)
(احسن الفتاوی : ۲۵۱/۴،ط: بنگلہ اسلامک اکیڈمی دہلی، فتاویٰ دار العلوم زکریا:۶۱۴/۲، ۶۱۵)
