(فتویٰ نمبر: ۲۰۹)
سوال:
میرا انتخاب ”میکس نیووارک کمپنی لمٹیڈ بھارتی جیون بیمہ“ (Max new wark company bharti jeevan bima)میں ہوا ہے، جس میں میرا کام لوگوں سے مل کر بیمہ کرانے کے لیے صلاح ومشورہ دینا اور لوگوں کو سمجھانا ہے، اس کام کی بنا پر کمپنی مجھے ماہ واری تنخواہ آٹھ ہزار (8000)روپے دیتی ہے، تو کیا اس کمپنی میں رہ کر ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
بیمہ (Bima)کی جو صورتیں رائج ہیں وہ شرعی نقطہٴ نظر سے صحیح نہیں ہیں، بلکہ سود اور جوا کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں(۱)، اس لیے ایسی کمپنیوں میں ملازمت اختیار کرنا معاصی کو ترقی دینے میں اعانت کرنا ہے، اور ہمیں معاصی کی اعانت سے روکا گیا ہے(۲)،لہٰذا آپ کے لیے ایسی کمپنی جس میں سودی(بیمہ) کا روبار ہوتا ہو،بیمہ پر صلاح ومشورہ دینے کے لیے ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر غلطی اورناواقفیت کی بنا پر ایسی کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی ہے، تو آپ پر لازم ہے کہ فوری طور پر کوئی حلال ذریعہٴ معاش کا بندو بست کریں(۳)،اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے رہیں، اور جب حلال ذریعہ میسر آجائے، تو فوراً اس ملازمت کو چھوڑ دیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أَحَلَ اللّٰه الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابرقال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله ،وکاتبه وشاهدیه“، وقال :” هم سواء “․ (۲۷/۲ ، باب الربا)
ما في ” تکملة فتح الملهم مع التکملة کاملة “ : (وکاتبه) لأن کتابة الربا إعانة علیه، ومن هنا ظهر أن التوظف في البنوک الربویة لا یجوز ، فإن کان عمل الموٴظف في البنک ما یعین علی الربا، کالکتابة أو الحساب فذلک حرام لوجهین: الأول: إعانة علی المعاصي، والثاني: أخذ الأجرة من المال الحرام ، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا ، وأما إذا کان العمل لا علاقة له بالربا فإنه حرام للوجه الثاني فحسب ۔ (۵۷۵/۷)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَاتَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾ ۔ (سورة المائدة:۲)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو استأجر الذمي مسلمًا لیبیع له میتة لم یجز ، هکذا في الذخیرة ۔ (۴۵۰/۴ ، کتاب الإجارة ، مطلب الإجارة علی المعاصي)
ما في ” الهدایة “ : ولا یجوز الاستیجار علی الغناء والنوح ، وکذا سائر الملاهي ؛ لأنه استیجار علی المعصیة ، والمعصیة لا تستحق بالعقد ۔
(۳۰۳/۳ ، کتاب الإجارة ، باب الإجارة الفاسدة)
(۳) ما في ” إحیاء علوم الدین “ : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” طلب الحلال فریضة علی کل مسلم “ ۔ (۸۸/۲ ، کتاب الحلال والحرام)
(جدید معاملات کے شرعی احکام :۱۷۶/۱، منتخباتِ نظام الفتاویٰ :۳۲۲/۲) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۴/۲۱ھ
