مسئلہ:
مدرسہ میں بعض بڑے طلباء کی سرپرستی ونگرانی میں ان کے اپنے وطن ، علاقہ یا عزیز وقریب کے چھوٹے نابالغ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور ان کے روپئے پیسے ان ہی بڑے طلباء کے پاس جمع ہوتے ہیں، یا جب ان چھوٹے طلباء کے گھروں سے کھانے پینے کی اشیاء آتی ہیں، تو وہ اشیاء بھی ان ہی کے قبضہ میں ہوتی ہیں، چھوٹے طلباء اپنے ان سرپرست بڑے طلباء کو اپنی رقم میں سے کچھ رقم ، یا اشیائے خوردنی میں سے کوئی شیٴ بطور ہدیہ یا ہبہ دیدیتے ہیں، اور یہ بڑے طلباء بلاتأمل ان کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ شرعاً یہ عمل جائز نہیں ہے، کیوں کہ نابالغ بچہ کا ہبہ وہدیہ کرنا جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وأما ما یرجع إلی الواهب فهو أن یکون الواهب من أهل الهبة وکونه من أهلها أن یکون حراً عاقلاً بالغاً مالکاً للموهوب حتی لو کان عبداً أو مکاتباً أو مدبراً أو أم ولد أو من فی رقبته شیٴ من الرق أو کان صغیراً أو مجنوناً أو لا یکون مالکاً للموهوب لا یصح هکذا فی النهایة ۔ (۳۷۴/۴،کتاب الهبة، الباب الأول)
ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : وشرائط صحتها فی الواهب (العقل والبلوغ والملک) فلا تصح هبة صغیر ورقیق ولو مکاتباً۔
(۵۶۵/۱۲،کتاب الهبة، تبیین الحقائق:۴۸/۶، کتاب الهبة، درر الحکام شرح مجلة الأحکام: ۴۵۱/۲، شرائط الهبة، المادة: ۸۵۹)
(فتاوی محمودیه:۴۸۳/۱۶)
