نصاب کے مقدار زائد از ضرورت مال میں قربانی واجب ہوگی

مسئلہ:

اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے، موبائل فون، گھریلو برتن، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن اور وی سی آر وغیرہ جن کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی ) کے برابر ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی، کیوں کہ وجوبِ قربانی کے لیے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {فصل لربک وانحر} ۔ (الکوثر: ۲)

ما في ’’السنن لإبن ماجة ‘‘: قوله علیه السلام: ’’من وجد سعة فلم یضح فلا یقربن مصلانا ‘‘۔ (ص۲۲۶)

ما في ’’الفتاوی الهندیة‘‘: قال في الهندیة: وأما شروط الوجوب منها الیسار وهو ما یتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما یتعلق به وجوب الزکاة ۔ (۲۹۲/۵)

ما في ’’ بدائع الصنائع‘‘: فلابد من اعتبار الغني وهو أن یکون في ملکه مائتا درهم أوعشرون دیناراً أو شيء تبلغ قیمته ذلک سوی مسکنه وکسوتة وما لا یستغنی عنه۔

(۱۹۶/۴، الدر المختار مع الشامیة :۳۷۹/۹)

اوپر تک سکرول کریں۔