نعش کو سمندر میں پھینکنا

مسئلہ:

اگر کسی مسلمان کا انتقال پانی کے جہاز پر ہوجائے، اور نعش کو فریز آف کرکے خشکی تک لانا ممکن ہو، یعنی جہاز میں اس کے اسباب مہیا ہوں، تو نعش کو سمندر میں پھینکنا جائز نہیں، بلکہ ضروری ہوگا کہ اسے فریز آف کرکے خشکی تک لایا جائے، اور پھر باقاعدہ غسل وکفن اور نمازِ جنازہ کے بعد اس کو قبر میں دفن کیا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : ومن مات في سفینة وکان البر بعیدًا وخیف الضرر به غسل وکفن وصلی علیه وألقي في البحر ۔ قوله: (وخیف الضرر به) أي التغییر، أما إذا لم یخف علیه التغیر، ولو بعُد البرّ أو کان البرّ قریبًا، وأمکن خروجه فلا یرمی کما یفیده مفهومه، والظاهر علیه حرمة رمیه وحرره نقلا۔

(ص:۶۱۳، باب أحکام الجنائز، فصل في حملها ودفنها)

ما في ” الشامیة “ : قوله: (إن لم یکن قریبًا من البرّ) الظاهر تقدیره، بأن یکون بینهم وبین البرّ مدة یتغیر المیت فیها، ثم رأیت في ” نور الإیضاح “ التعبیر بخوف الضرر به۔

(۱۴۰/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن المیت)

ما في ” فتح القدیر “ : ومن مات في سفینة دفنوه إن أمکن الخروج إلی الأرض وإلا ألقوه في البحر بعد الغسل والتکفین والصلاة۔

(۱۵۰/۲، باب الجنائز، فصل في الدفن، البحر الرائق:۳۳۸/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۸۶۴۷)

اوپر تک سکرول کریں۔