مسئلہ:
اگر کسی شخص نے نمازِ جنازہ میں صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اُٹھانے کی بجائے بھول سے چاروں تکبیروں میں ہاتھ اُٹھایا ، تو نمازِ جنازہ درست ہوگی، اعادہ کی حاجت نہیں، کیوں کہ ائمہٴ ثلاثہ کے علاوہ بہت سے فقہاء احناف کا مذہب یہ ہے کہ چاروں تکبیروں میں ہاتھ اُٹھائے جائیں گے، لہٰذا چاروں تکبیروں میں ہاتھ اُٹھانے کو مفسد نہیں کہا جاسکتا، نیز تنفُّل بصلوة الجنازہ (نمازِ جنازہ کو مکرر پڑھنا) مکروہ ہے، لیکن آئندہ احتیاط کی جانی چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (یرفع في الأولی فقط) وقال أئمة بلخ : في کلها ۔ التنویر وشرحه ۔ وفي الشامیة: قوله: (وقال أئمة بلخ : في کلها) وهو قول الأئمة الثلاثة وروایة عن أبي حنیفة کما في شرح درر البحار، والأول ظاهر الروایة کما في البحر۔
(۱۰۹/۲، باب صلاة الجنازة، مطلب هل یسقط فرض الکفایة بفعل الصبي، بیروت، البحر الرائق:۳۲۲/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوته)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : ولا ترفع الأیدي إلا في التکبیرة الأولی الإمام والقوم فیها سواء وکثیر من أئمة بلخ اختاروا رفع الید عند کل تکبیرة فیها ۔
(۱۰۲/۲۔۱۰۳، کتاب الصلاة، باب غسل المیت)
