نمازی کے سامنے سے قرآن یا کوئی اور چیز لینا ، غیر مصلی کا کسی نمازی سے بات چیت کرنا!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۷)

سوال:

۱-اگر کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان میں نماز پڑھ رہا ہو، تو کیا ان دو آزو بازو والوں کے لیے اس نمازی شخص (جو بحالتِ نماز ہے) کے سامنے سے قرآن شریف یا دوسری چیز کا لینا دینا،یا باتیں کرنا،یا اشارے سے گفتگو کرنا جائز ہے یا نہیں؟جب کہ ان کے ایسا کرنے سے نمازی کے نماز میں خلل پڑتا ہے۔

۲-اگر کوئی شخص نماز کی حالت میں ہے اور دوسرا شخص اس کا منتظر ہے اور وہ جاتے ہوئے اس نمازی کو یہ میسیج (Message) دے جارہا ہے کہ مجھے کینٹین(Canteen) کے پاس ملنا،یا فلاں کام کرلینا جس کی وجہ سے اس نمازی کی نماز میں خلل پڑتا ہے، اور اس میں نماز پڑھنے والے کا کوئی قصور نہیں ہے، تو اس میسیج(Message)دینے والے شخص کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

ہر ایسا فعل جو نمازی کی نماز میں خلل کا باعث ہو، اس کا ارتکاب جس طرح خود مصلی کے لیے مکروہ ہے، اسی طرح کسی اور کے لیے کرنا بھی مکروہ ہے، لہٰذا سوال میں مذکورہ افعال کا ارتکاب مصلی کی نماز میں خلل کا باعث ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : وتکره بحضرة کل ما یشغل البال کزینة وبحضرة ما یخل بالخشوع ۔ (ص/۳۶۰ ، کتاب الصلاة)

ما في ” رد المحتار علی الدر المختار “ : أجمع العلماء سلفا وخلفا علی استحباب ذکر الجماعة في المساجد وغیرها إلا أن یشوش جهرهم علی نائم أو مصل أو قارئ ۔

(۳۷۷/۲ ، کتاب الصلاة ، مطلب في رفع الصوت بالذکر)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : کل عمل وهو مفید لا بأس به للمصلي وما لیس بمفید یکره ۔ (۱۰۵/۱)

ما في ” البنایة في شرح الهدایة “ : والحاصل في هذا الباب أن کل عمل یفید مصلحة المصلي لا بأس أن یفعله ، وکل عمل لیس بمفید فیکره أن یشغل به۔(۵۲۲/۲)

ما في” رد المحتار علی الدر المختار “:بقي من المکروهات أشیاء أخر ذکرها في المنیة ونور الإیضاح وغیرهما منها الصلاة بحضرة ما یشغل البال ویخل بالخشوع کزینة ولهو ولعب۔

(۳۶۸/۲ ، کتاب الصلاة)

ما في ” النهر الفائق “ : وکره کل هیئة فیها ترک الخشوع ۔

(۲۸۷/۱، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مختصر الوقایة :۱۵۴/۱،کتاب الصلاة،فصل في المکروهات)فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۳۰/۲/۶ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔