نماز جنازہ کی صفوں میں طاق عدد کا لحاظ رکھنا

مسئلہ:

نماز جنازہ کی صفوں میں طاق عدد کا لحاظ رکھنا شرعاً مستحب ہے، کیو ں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : جس شخص پر تین صفوں نے نمازِ جنازہ پڑھی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے(۱)، چنانچہ اگر کسی جنازہ میں محض سات آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امامت کیلئے آگے بڑھ جائے، اور اس کے پیچھے تین لوگ کھڑے ہوں، پھر ان کے پیچھے دو اور ان کے پیچھے ایک(۲)، نیز اس طاق عدد کے لحاظ میں نا بالغوں کو بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن مرثد الیزنی عن مالک بن هبیرة قال : قال رسول الله ﷺ : ” ما من میت یموت ، فیصلی علیه ثلاثة صفوف من المسلمین إلا أوجب أی استحق الجنة “۔(ص/۴۵۱ ، کتاب الجنائز ، باب فی الصف علی الجنازة)

(۲) ما فی ” حلبی کبیر “ : یستحب أن یصفوا ثلاثة صفوف حتی لو کانوا سبعة یتقدم أحدهم للإمامة ویقف وراء ه ثلاثة ، وراء هم اثنان ، ثم واحد ذکره فی المحیط ، لقوله علیه الصلاة والسلام : ” من صلی علیه ثلاثة صفوف غفر له “ ۔

(ص/۵۸۸ ، فصل فی الجنائز ، الرابع الصلوة علیه ، الفتاوی الهندیة :۱۶۴/۱ ، کتاب الصلوٰة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، الفصل الخامس فی الصلوٰة علی المیت)

(۳) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن عبد الرحمن بن غنم قال : قال أبومالک الأشعری : ألا أحدثکم بصلوٰة النبی ﷺ ؟ قال : ” فأقام الصلوٰة فصف الرجال وصف الغلمان خلفهم ثم صلی بهم “ ۔(ص/۹۸ ، کتاب الصلوٰة ، باب مقام الصبیان من الصف)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : لو اجتمع الرجال والنساء والصبیان والخناثی والصبیات المراهقات، فأرادوا أن یصطفوا للجماعة یقوم الرجال صفًا مما یلی الإمام، ثم الصبیان بعدهم، ثم الخناثی، ثم الإناث، ثم الصبیات المراهقات۔ (۳۹۲/۱ ، کتاب الصلوٰة ، فصل أما بیان مقام الإمام والمأموم)

(فتاوی محمودیه:۵۹۷/۸، فتاوی حقانیه:۴۴۶/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔