نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لیے دعامانگنا

مسئلہ:

بعض لوگ نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھاکر میت کیلئے دعا مانگتے ہیں، جب کہ کتبِ فقہ میں نمازِ جنازہ کے بعد مستقلاً میت کیلئے دعا مانگنے کو منع کیا گیا ہے، کیوں کہ نمازِ جنازہ خود دعا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” مرقاة المفاتیح “ : ولا یدعو للمیت بعد صلوٰة الجنازة ، لأنه یشبه الزیادة فی صلوٰة الجنازة ۔

 (۱۴۹/۴ ، کتاب الجنائز ، باب المشی بالجنازة ، تحت رقم الحدیث : ۱۶۸۷، خلاصة الفتاوی :۲۲۵/۱ ، الفصل الخامس والعشرون فی الجنائز ، نوع منه : إذا اجتمعت الجنائز ، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة :۸۰/۴ ، کتاب الصلوٰة ، الخامس والعشرون فی الجنائز)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : إنها لیست بصلوٰة علی الحقیقة ، إنما هی دعاء واستغفار للمیت ۔ (۵۲/۲ :کیفیة الصلوٰة علی الجنازة)

(فتاوی محمودیه :۷۱۱/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔