نماز میں مسنون قرأت

مسئلہ:

اگر کسی مسجد کا امام نمازوں میں مسنون طریقہ پر قرأت کرتا ہو اور اُس کے اِس عمل سے مصلی اور محلہ کے لوگ ناراض ہوں ، تو امام کو چاہیے کہ مصلی اور محلہ کے لوگوں کی ناراضگی کی وجہ سے مسنون قرأت کرنا نہ چھوڑے، بلکہ مصلیان کو نرمی سے سمجھادے کہ خلافِ سنت عمل سے نبی اکرم ﷺ ناخوش ہوتے ہیں، جو کہ مسلمان کے لیے زیبا نہیں، آپ ﷺکو ناراض کرکے قیامت میں شفاعت کی درخواست کیسے کرسکیں گے، اور بغیر آپ ﷺکی شفاعت کے نجات کیسے ملے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وما کان لموٴمن ولا موٴمنة إذا قضی الله ورسوله أمرًا أن یکون لهم الخِیرة من أمرهم﴾۔ (الأحزاب : ۳۹)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة قال: قال رسول الله ﷺ: ” کل أمتي یدخلون الجنة إلا مَن أبی، قیل: ومَن أبی؟ قال: ” من أطاعني دخل الجنة، ومن عصاني فقد أبی “۔ رواه البخاري۔ (ص:۲۷، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول، رقم الحدیث: ۱۴۳)

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : قوله ﷺ: ” من ترک سني لم ینل شفاعتي “۔ (ص:۶۴، فصل في سنن الوضوء، مکتبة شیخ الهند دیوبند)

(فتاوی محمودیہ : ۱۴۰/۱۲)

اوپر تک سکرول کریں۔