مسئلہ:
نماز میں کوئی واجب ترک ہوگیا ہو او رسجدہ ٔ سہو نہ کیا گیا ہو یا جو نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا ہوئی ہو وہ واجب الاعادہ ہے ، مگر اعادہ کا یہ حکم وقت کے باقی رہنے تک ہی ہے ، وقت کے نکل جانے پر اعادہ کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے ، اب اس کی مکافات استغفار کے ذریعہ کی جائے گی ،لیکن اگر وقت نکل جانے کے بعد اعادہ کرلیا جائے تو افضل ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: فالحاصل أن من ترک واجباً من واجباتها أوارتکب مکروهاً تحریمیاً لزمه وجوباً أن یعید في الوقت، فإن خرج أثم ولا یجب جبر النقصان بعده أي بعد الوقت فلو فعل فهو أفضل ۔ (۴۵۵/۲، باب قضاء الفوائت)
ما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: کل صلاة أدیت مع کراهة التحریم تعاد أي وجوباً في الوقت وأما بعده فندباً۔
(ص۴۴۰، البحر الرائق :۱۳۹/۲، الفتاوی الهندیة :۱۰۹/۱، الموسوعة الفقهیة :۱۱۲/۲۷)
ما في ’’السنن الترمذي‘‘: أن رجلاً صلی خلف الصف وحده فأمره رسول الله ﷺ أن یعید الصلاة ۔(رقم الحدیث:۲۳۰)
ما في ’’العرف الشذي‘‘: (أن یعید الصلاة ) الإعادة عندنا لأداء الصلاة بالکراهة تحریماً ولا یقال إن هذا إعادة الصلاة بل هذه الصلاة لتکمیل الصلاة الأولی ۔ (۲۳۹/۱)
