مسئلہ:
اگر کھا نسنا کسی عذر کی وجہ سے ہو جیسے کھا نسی کا مرض ہو ،یا بے اختیار کھانسی آجائے تو نماز فاسد نہیں ہو گی ،خواہ اس کھانسنے میں کتنے ہی حروفِ ہجائیہ حاصل ہوں، کیوں کہ یہ صاحبِ حق یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے معاف ہے ،لیکن اگر کھانسنا بلا عذر اور بلا غرض ِصحیح ہو، یعنی نہ قرأ ت کیلئے آواز صاف کرنے ،اورنہ یہ بتلانے کیلئے کہ وہ نماز میں ہے ،اورنہ اپنے امام کو اس کی غلطی پر آگاہ کرنے کیلئے ، تو اس کھانسنے میں اگر دوحرف حاصل ہوں جیسے ” أُحْ ، أُحْ “ تو طرفین یعنی امام ابوحنیفہ اورامام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک نماز فاسدہوگی ،اور اگر کھانسنا بلا عذر مگرغرض صحیح سے ہو، مثلاً قرأت کیلئے آواز صاف کرنے ،یا اپنے نماز میں ہو نے کو بتلانے ،یا اپنے امام کو اس کی غلطی پر آگاہ کرنے کیلئے ہوتو نماز فاسد نہیں ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والتنحنح بحرفین بلا عذر أما به بأن نشأ من طبعه فلا أو بلا غرض صحیح فلو لتحسین صوته أو لیهتدي إمامه أو للإعلام أنه في الصلاة فلا فساد علی الصحیح ۔ ” الدر المختار “۔(۳۷۶/۲ ، ۳۷۷ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)
مافی ’’البحرالرئق ‘‘(قوله :والتنحنح بلاعذر)وھوان یقول :’’اح‘‘بالفتح والضم،والعذر:وصف یطرأ علی المکلف یناسب التسهیل علیه ، فإن کان التنحنح لعذر فإنه لا یبطل الصلاة بلا خلاف ، وإن حصل به حروف ، لأنه جاء من قبل من له الحق فجعل عفوًا ، وإن کان من غیر عذر ولا غرض صحیح فهو مفسد عندهما ، خلافا لأبي یوسف في الحرفین ، وإن کان بغیر عذر لکن لغرض صحیح ، کتحسین صوته للقراء ة ، أو للإعلام أنه فی الصلاة ، أو لیهتدي إمامه عند خطئه ففیه اختلاف ، فظاهر الکتاب الظهیریة اختیار الفساد ، لکن الصحیح عدمه ، لأن ما للقراء ة ملحق بها ، کما في فتح القدیر وغیره ، فلو قال بلا عذر وغرض صحیح لکان أولیٰ إلا أن یستعمل العذر فیما هو أعم من المضطر إلیه ، قیدنا بأن یظهر له حروف ، لأنه لو لم یظهر له حروف مهجاة فإنه لا یفسدها اتفاقا ، لکنه مکروه ، وهو مجمل فقول من قال : إن التنحنح قصدًا واختیارًا مکروه لأنه عبث لعروه عن الفائدة ۔(۷/۲، ۸ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)
