(فتو یٰ نمبر:۲۰۲)
سوال:
زید کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک بیٹی کا انتقال زید کی موجودگی میں ہی ہوچکا تھا، اس وقت یہ بیٹی ایک بچہ چھوڑ کر گئی ،تو اس صورت میں نواسے کو نانا کی جائداد میں سے کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں نواسے کو نانا کی جائداد سے کچھ نہیں ملے گا،کیوں کہ نواسا ذوی الارحام میں سے ہے ،اور ذوی الارحام کا حصہ ذوی الفروض اور عصبہ کے بعد ہوتا ہے،جب کہ یہاں عصبہ یعنی مرنے والے کے بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : ذوي الأرحام هو کل قریب لیس بذي سهم ولا عصبة، ولا یرث مع ذي سهم ولا عصبة۔ (تنویر)۔
(۴۴۸/۱۰ ، کتاب الفرائض، باب توریث ذوي الأرحام)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإنما یرث ذوي الأرحام إذا لم یکن أحد من أصحاب الفرائض ممن یرد علیه ولم یکن عصبة ۔
(۴۵۹/۶ ، کتاب الفرائض ، الباب العاشر في ذوي الأرحام)
ما في ” الشریفیة شرح السراجیة في المیراث “ : فیبدأ بأصحاب الفرائض ، وهم الذین لهم سهام مقدرة في کتاب اللّٰه تعالی ، ثم یبدأ بالعصبات من جهة النسب ، والعصبة کل من یأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض ، وعند الانفراد یحرز جمیع المال ، ثم بالعصبة من جهة النسب وهو مولی العتاقة ، ثم الرد علی ذوي الفروض النسبیة ، ثم ذوي الأرحام أي یبدأ عند عدم الرد لانتفاء ذوي الفروض النسبیة بذوي الأرحام ، وهم الذین لهم قرابة ولیسوا بعصبة ولا ذوي سهم ، وإنما أخروا عن الرد ؛ لأن أصحاب الفرائض النسبیة أقرب إلی المیت وأعلی درجة منهم ۔ (ص/۷ ، ۸) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۳/۲۰ھ
