نکاح نعمت اور طلاق ضرورت

مسئلہ:

نکاح اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے ذرا ذرا سی بات پر طلاق دینا، جب کہ نِباہ اور صلح کی صورتیں موجود ہوں، شرعاً نا پسندیدہ اور عند اللہ مبغوض ہے(۱)، لیکن جب میاں بیوی کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت ہو، اور حقوقِ زوجیت ادا نہ ہورہے ہوں، گھر جہنم بنا ہوا ہو، بیوی کی طرف سے طلاق کا مطالبہ ہو، تو ایسی حالت میں طلاق دینا ایک ضرورت ہے، اور بوقتِ ضرورت طلاق دینا منع نہیں بلکہ بہتر ہے(۲)، لہٰذا شوہر کو چاہیے کہ طلاق دے کر تعلق کو ختم کردے، نہ تکلیف سہے اور نہ تکلیف دے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” سنن أبی داود “ : عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: ” أبغض الحلال إلی الله عزّوجلّ الطلاق “۔

(ص:۲۹۶، کتاب الطلاق، باب في کراهیة الطلاق، رقم:۲۱۷۸، سنن ابن ماجة:ص/۱۴۵، أبواب الطلاق، مشکوة المصابیح:ص/۲۸۳، باب الخلع والطلاق، الفصل الثاني)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الأصل فیه الحظر معناه أن الشارع ترک هذا الأصل فأباحه، بل یستحب لو موذیة۔

(۴۲۷/۴۔۴۲۸ ، کتاب الطلاق، النهر الفائق:۳۱۰/۲، کتاب الطلاق، البحر الرائق:۴۱۲/۳، کتاب الطلاق، فتح القدیر لإبن الهمام:۴۴۶/۳، کتاب الطلاق)

(فتاویٰ محمودیه:۲۸/۱۸، میرٹھ)

(۳)ما في ” مجمع الزوائد “ :قوله ﷺ:”لا ضَرر ولا ضِرار في الإسلام“۔(۱۳۸/۴،البیوع،باب لا ضرر ولا ضرار،سنن ابن ماجه:ص/۱۵۹،أبواب الأحکام، التمهید:۲۸۴/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔