نکاح کے بعد دولہے کا حاضرین کو سلام

مسئلہ:

بعض علاقوں میں یہ رواج عام ہے کہ نکاح کے فوراً بعد ، دولہا حاضرینِ ِ مجلس کو سلام کرتا ہے، اور بعض لوگوں سے مصافحہ بھی کرتا ہے، جب کہ شرع اسلامی میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، لہذا یہ بے اصل وبدعت ہے، اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” صحیح البخاري “ : ” من أحدث فی أمرنا هذا ما لیس منه فهو رد “۔(۳۷۱/۱، کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا الخ، رقم الحدیث: ۲۶۹۷)

ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني“: البدعة هي الأمر المحدث الذي لم یکن علیه الصحابة والتابعون، ولم یکن مما اقتضاه الدلیل الشرعي۔ (ص:۴۷)

ما فی ” الشامیة “ : اعلم أن المصافحة مستحبة عند کل لقاءٍ، وأما ما اعتاده الناس من المصافحة بعد صلوٰة الصبح والعصر فلا أصل له فی الشرع۔

(۵۴۷/۹، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء)

ما فی ” السعایة “ : إن السلام إنما هو سنة عند الملاقاة کما ثبت ذلک فی الأخبار لا فی أثناء المجالسة ۔ (۲۶۴/۲، باب صفة الصلوٰة)

(فتاوی محمودیه :۴۲۱/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔