والد کی دکان سے دوستوں کو رعایت پر سامان دینا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کے والد کی دکان ہو ، اور شخص مذکور اس دکان پر بحیثیت ملازم کام کرتا ہو، تو وہ اپنے والد کی مرضی کے بغیر اپنے دوست واحباب اور متعلقین کو ایسی رعایت سے سامان فروخت نہیں کرسکتا ، جو عام طور سے تاجر نہ کرتے ہوں،(۱) اور نہ اس سے رعایتی داموں پر خریدنا جائز ہوگا۔(۲)

اسی طرح اگر وہ دکان میں حصہ دار ہے تب بھی یہی حکم ہے،(۳) ہاں ! اگر دکان کا مالک وہی ہے اور باپ اور بھائی اس میں بطور ملازم یا تبرعاً کام کرتے ہوں، تو اس صورت میں اس کیلئے رعایت کرنا اور اس سے رعایت پر سامان خریدنا دونوں عمل جائز ہیں، کیوں کہ وہ مالک ہے، اور مالک کو اپنے مال میں تصرف کی اجازت ہوتی ہے۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” مشکوٰة المصابیح “ : عن أبی حرة الرقاشی عن عمه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔

(ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریة)

ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه “ : لا یجوز التصرف فی مال غیره بلا إذنه ولا ولایته۔(۲۴۰/۹، کتاب الغصب، مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر)

(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : الحرمة تتعدد مع العلم بها ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی: أما لو رأی المکاس مثلاً یأخذ من أحد شیئاً من المکس ثم یعطیه آخر، ثم یأخذ من ذلک الآخر آخر فهو حرام ۔ (۲۲۳/۷، باب البیع الفاسد، مطلب الحرمة تتعدد)

(۳) ما فی ” تبیین الحقائق “ : وکل أجنبی فی قسط صاحبه، أی کل واحد منهما أجنبی فی نصیب صاحبه حتی لا یجوز له أن یتصرف فیه إلا بإذنه کما لغیره من الأجانب۔

(۲۳۵/۴، کتاب الشرکة)

(۴) ما فی ” شرح المجلة لسلیم رستم باز “ : کل یتصرف فی ملکه کیف ما شاء۔(ص/۶۵۴، رقم المادة: ۱۱۹۲)

 (فتاوی عثمانی : ۲۴۶/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔