مسئلہ:
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ تہجد گزار ہیں، انہیں وتر تہجد کے وقت ادا کرنا چاہیے، عشا کے وقت نہیں، کیوں کہ وتر کے بعد سے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ جو لوگ تہجد گزار ہیں وہ بھی وتر کو عشا کے بعد پڑھ سکتے ہیں، بلکہ یہ اَحوط ہے، پھر اگر تہجد کے وقت اٹھیں، تو تہجد پڑھ لیں، وتر کو دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، یہ بات غلط ہے کہ وتر کے بعد سے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (و) تاخیر (الوتر إلی آخر اللیل لواثق بالانتباه) وإلا فقبل النوم، فإن أفاق وصلی نوافل والحال أنه صلی الوتر أول اللیل فإنه الأفضل ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: قوله: (فإن أفاق الخ) أي إذا أوتر قبل النوم ثم استیقظ یصلي ما کتب له، ولا کراهة فیه بل هو مندوب ولا یعید الوتر۔
(۲۸/۲، کتاب الصلاة، مطلب في طلوع الشمس من مغربها)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۱۶۵/۴)
