وراثت کی بنیاد

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وراثت میں بالغ اور نابالغ رشتہ داروں میں فرق ہے، یعنی بالغ کو زیادہ اور نابالغ کو کم حصہ ملے گا، جب کہ ان کا یہ خیال درست نہیں ہے، کیوں اسلام میں وراثت کی بنیاد رشتہ داری پر ہے(۱)، جو جتنا قریبی رشتہ دار ہوگا ، وراثت میں اسے اتنا ہی زیادہ حصہ ملے گا، اس میں بالغ اور نابالغ کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے، جن صورتوں میں ایک بڑا بھائی وراثت کا مستحق ہوگا، ان صورتوں میں اس کا چھوٹا اورنابالغ بھائی بھی اتنی ہی مقدار میں وراثت کا حق دار ہوگا، محض کم سنی اور بچپن کی وجہ سے نہ ہی اسے میراث سے محروم رکھا جاسکتا ہے، اور نہ ہی اس کے حصہٴ میراث میں کچھ کمی کی جاسکتی ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” البحر الرائق “ : ما یستحق به الإرث شیئان: النسب والسبب ، فالنسب علی ثلاثة أنواع: المنتسبون إلیه وهو الأولاد، والمنتسب هو إلیهم وهم الآباء والأمهات، والسبب وهم الأخوات والأعمام والعمات وغیر ذلک، والسبب ضربان: زوجیة وولاء۔ (۳۶۵/۹، کتاب الفرائض)

ما في ” الهندیة “ : ویستحق الإرث بإحدی خصال ثلاث بالنسب، وهو القرابة، والسبب وهو الزوجیة والولاء، وهو علی ضربین: ولاء عتاقة وولاء موالاة، وفي کل منهما یرث الأعلی من الأسفل، ولا یرث الأسفل من الأعلی۔(۴۴۷/۶، کتاب الفرائض، الباب الأول)(۲)

(۲)ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویستحق الإرث برحم ونکاح صحیح وولاء ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: یعني أن کل واحد منها علة للاستحقاق۔

(۴۹۷/۱۰، کتاب الفرائض) 

ما في ” البحر الرائق “ : إن الصبي والمجنون إذا قتل لم یتعلق به حق وجوب القصاص ولا حرمان المیراث۔ (۳۶۵/۹)

اوپر تک سکرول کریں۔