وطنِ اقامت اور وطنِ اصلی میں نماز

مسئلہ:

جامعہ کی حیثیت طلباء کے لئے وطنِ اقامت کی ہے ،اگر کوئی طالب علم جامعہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت کرے تو نماز پوری اداکرنی ہوگی، اور اگر پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت نہ کی تو وہ شرعاً مسافرہی ہے ،اوراگر کوئی طالب علم جامعہ سے ساڑھے ستہتر”۲/۱/۷۷“ کلومیٹر ،یا اس سے زائد اپنے وطنِ اصلی یا کسی اورمقام کی طرف سفر کرتاہے تو وہ شرعاً مسافر ہوگا ، اوردورانِ سفر چار رکعت والی نماز میں قصر کرے گا، جب وطن پہنچ جائے یا کسی اور مقام پر پندرہ روز اقامت کی نیت کرے تو وہ مقیم ہوگا ،اب وہ نماز یں قصرنہیں کرے گا بلکہ پوری پڑھے گا ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿وإذا ضربتم في الأرض فلیس علیکم جناح أن تقصروا من الصلوٰة﴾ ۔ (سورةالنساء :۱۰۱)

ما في ” اعلاء السنن “ : عن عمر قال :” صلاة المسافر رکعتان ، وصلا ة الجمعة رکعتان ، والفطر رکعتان ، والأضحی رکعتان ، تمام غیر قصر ، علی لسان محمد ﷺ “ ۔ رواه ابن ماجة والنسائي وابن حبان ۔ وإسناده صحیح ۔ (۲۸۶/۷ ، باب وجوب القصر في السفر وکراهة الاهتمام)

ما في التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (صلی الفرض الرباعي رکعتین ولو عاصیا بسفره حتی یدخل موضع مقامه أو ینوي إقامة نصف شهر بموضع صالح لها) من مصر أو قریة ( فیقصر إن نوی) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر ۔ التنویر وشرحه ۔(۶۰۳/۲ ، ۶۰۶ ، باب صلاة المسافر ، البحرالرائق : ۲۳۰/۲ ، باب صلاة المسافر)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : ” المشقة تجلب التیسیر “ ۔ (۲۷۶/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔