(فتویٰ نمبر: ۲۱۶)
سوال:
ہمارے شہر آکوٹ میں تقریباً ۵۰/ برس پہلے عید گاہ بنی ہوئی تھی، اب وہ وسطِ شہر میں آچکی ہے، اور اس کے اطراف میں مارکیٹ بن چکا ہے اور کچھ مکانات بھی ہیں، تقریباً ۱۵/ سال قبل دوسری عیدگاہ شہر کے باہر بنائی گئی ہے، جس میں عیدین کی نمازیں ادا کی جارہی ہے، لہٰذا پہلی عیدگاہ جو وسطِ شہر میں ہے اس کو مسجد یا مدرسے میں منتقل کرنا جائز ہے یانہیں؟ جب کہ ابھی فی الحال اس میں نمازِ پنج گانہ ادا کی جارہی ہے،نمازیوں کی تعداد روزانہ کی ۲۵/سے ۳۰ /تک ہے، اور جمعہ میں ۲۰۰/ لوگ نماز کے لیے آتے ہیں ،اور رمضان المبارک میں ۳۰۰/ تک ہوجاتے ہیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
وقف کے سلسلے میں اتنی بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ وقف میں شرطِ واقف اور جہتِ وقف کے خلاف کرنا جائز نہیں(۱)، اس لیے بہتر یہی ہے کہ دونوں عیدگاہوں کو عیدگاہ ہی رہنے دیا جائے، عام لوگ شہر کے باہر والی عیدگاہ میں عیدین کی نماز اداکریں، اور جو لوگ معذور ہیں وہ قدیم عیدگاہ میں عیدین کی نماز پڑھیں، اس طرح دونوں عیدگاہ آباد رہیں گی،اور واقف کا مقصد بھی پورا ہوگا اور اگر یہ نہ ہوسکے تو تمام لوگوں کے اتفاق سے قدیم عیدگاہ کو نمازِ پنج گانہ کے لیے مسجد قرار دے کر آبادکرلیں(۲)،اسی طرح قدیم عیدگاہ میں مدرسہ بھی بناسکتے ہیں،مگر زمین کا کرایہ عیدگاہ کے لیے تجویز کردیں، زمین عیدگاہ کی رہے گی جس کا کرایہ مدرسہ دیتا رہے گا اور عمارت مدرسے کی رہے گی۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالک ، فله أن یجعل ماله حیث شاء ما لم یکن معصیة ۔
(۴۱۲/۶ : کتاب الوقف ، مطلب شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : شرط الواقف کنص الشارع ؛ أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به ۔ (۵۰۸/۶ ، کتاب الوقف ، ط : دار الکتاب دیوبند)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف علیه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاکم أن یصرف من فاضل الوقف الآخر علیه) ۔۔۔۔۔۔۔ وإن اختلف أحدهما۔۔۔۔۔ لا ۔ (در مختار) ۔(۴۳۱/۶ ، کتاب الوقف ، مطلب في نقل أنقاض المسجد ، ط : دار الکتاب دیوبند)
(۲) ما في ” الفتاوٰی الهندیة “ : في الکبری : مسجد أراد أهله أن یجعلوا الرحبة مسجدًا ، أو المسجد رحبةً ، وأرادوا أن یحدثوا له بابًا ، وأرادوا أن یحولوا الباب عن موضعه فلهم ذلک ۔(۴۵۶/۲ ، کتاب الوقف)
(فتاویٰ محمودیه :۳۳۷/۱۵)
ما في ” عمدة القاري شرح صحیح البخاري للعینی “ : لو أن مقبرة من مقابر المسلمین عفت ، فبنی قوم علیها مسجدًا لم أر بذلک بأسًا ، وذلک لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمین لدفن موتاهم ، لا یجوز لأحد أن یملکها، فإذا درست واستغنی عن الدفن فیها جاز صرفها إلی المسجد ؛ لأن المسجد أیضًا وقف من أوقاف المسلمین ، لا یجوز تملکه لأحد فمعناهما علی هذا واحد ۔ (۲۶۵/۶ ، کتاب الصلاة ، باب هل تنبش قبور مشرکي الجاهلیة ویتخذ مکانها مساجد ، رقم : ۴۲۷)
(فتاویٰ محمودیه :۳۵۲/۱۵-۳۵۶)
(۳) ما في ” فتاوی قاضي خان علی هامش الفتاوی الهندیة “ : ولو کانت الأرض متصلة ببیوت المصر یرغب الناس في استئجار بیوتها ، ویکون غلة ذلک فوق غلة الزرع والنخل ، کان للقیم أن یبني فیها بیوتًا ویوٴاجرها ۔ (۳۰۰/۳)
(فتاویٰ محمودیه :۳۳۷/۱۵) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۵/۱ھ
