وقف کے بعد شیٴموقوفہ واپس لینے کا حکم شرعی

(فتویٰ نمبر: ۹۲)

سوال:

کڑوی بائی نے اپنی حیات میں اپنی پوری زمین ۱۲/ ایکڑ ۵۳/ ڈسمل میں سے آدھی زمین اپنی نواسی سما بائی کے نام وصیت کی،اس کے بعد کڑوی بائی کا انتقال ہوا، اور اس نے اپنے پیچھے صرف ایک لڑکی بینا بائی چھوڑی، بینا بائی نے اپنی ماں کڑوی بائی کی پوری زمین ۱۲/ ایکڑ ۵۳/ ڈسمل مدرسہ میں وقف کی، جب کہ اس میں سے آدھی زمین کڑوی بائی کی نواسی سما بائی کے نام وصیت کردہ تھی، بینا بائی حیات ہے، اس کی پانچ لڑکیاں ہیں، جن میں سے ایک سما بائی بھی ہے، جس کے نام آدھی زمین وصیت کردہ ہے ، اب یہ پانچوں لڑکیاں اپنی ماں بینا بائی سے اپنا اپنا حصہ مانگ رہی ہیں، اس لیے بینا بائی وقف کردہ زمین واپس لے کر ان کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بینابائی اس وقف کردہ زمین کو واپس لے سکتی ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں کڑوی بائی کی کل زمین ۱۲/ ایکڑ ۵۳/ ڈسمل میں سے ۴/ ایکڑ ۱۷.۶/ڈسمل میں سما بائی کی ملک ہے، وہ اس کی حق دار ہے(۱)، اور اس ۴/ ایکڑ ۱۷.۶/ڈسمل میں بینابائی کا وقف صحیح نہیں ہے،کیوں کہ وقف کی صحت کے لیے شئ موقوفہ پر ملک شرط ہے، اور یہ اس کی ملک نہیں ہے۔(۲)

اس لیے اہلِ مدرسہ ۴/ ایکڑ ۶. ۱۷/ ڈسمل زمین سما بائی کو واپس کردیں،البتہ باقی زمین ۸/ایکڑ ۱۲. ۳۴/ ڈسمل بینابائی کی ملک تھی، اور وہ اس نے مدرسہ کے نام وقف کردی، اس لیے اب وہ زمین اس کی ملک باقی نہ رہی، کیوں کہ وقف کا حکم یہ ہوتا ہے کہ وقف کے بعد، واقف شئ موقوفہ کا نہ مالک بن سکتا ہے اور نہ کسی کو مالک بنا سکتا ہے، نہ عاریت پر دے سکتا ہے،نہ رہن پر رکھ سکتا ہے (۳)، اس لیے اب بینابائی اپنی اس وقف کردہ زمین کو واپس نہیں لے سکتی، اوربینا بائی کی بیٹیوں کا اپنی ماں سے اپنا اپنا حصہ طلب کرنا بھی شرعاً صحیح نہیں، کیوں کہ جب تک آدمی زندہ رہتا ہے وہ اپنی پوری جائداد کا مالک ہوتا ہے، ورثا کو ان کا حصہٴ شرعی اس کے مرنے کے بعد ملا کر تا ہے، اور چوں کہ بینابائی نے اپنی ملک کی زمین مدرسہ کے نام وقف کردی، اس لیے یہ بچیاں اس کے انتقال کے بعد بھی اس میں اپنا حصہ نہیں مانگ سکتیں، کیوں کہ یہ زمین بینا بائی کی ملک باقی نہ رہی، اور وراثت ملک میں ہی جاری ہوا کرتی ہے، غیر ملک میں نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتجوز بالثلث للأجنبي عند عدم المانع، وإن لم یجز الوارث ذلک لا الزیادة علیه، إلا أن تجیز ورثته بعد موته۔ (در مختار)

(۳۳۹/۱۰ ، کتاب الوصایا)

(الجامع الصغیر : ص/۵۲۰ ،۵۲۱ ، کتاب الوصایا ، البحر الرائق : ۲۱۳/۹ ، کتاب الوصایا ، تبیین الحقائق : ۲۷۶/۷ ، کتاب الوصایا ، السراجي في المیراث : ص/۴)

(۲) ما في ” البحر الرائق “ : الخامس من شرائطه :الملک وقت الوقف ،حتی لو غصب أرضًا فوقفها ثم اشتراها من مالکها، ودفع الثمن إلیه، أو صالح علی مالٍ دفعه إلیه، لا تکون وقفًا؛ لأنه إنما ملکها بعد أن وقفها۔ (۳۱۴/۵ ، کتاب الوقف)

(الفتاوی الهندیة :۳۵۳/۲، کتاب الوقف، رد المحتار: ۵۲۳/۶، کتاب الوقف)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فإذا تم ولزم لا یملک، ولا یعار، ولا یرهن۔ (در مختار)۔ وفي الشامیة : قوله : (لا یملک) أي لا یکون مملوکًا لصاحبه، ولا یملک: أي لا یقبل التملیک لغیره بالبیع ونحوه لاستحالة تملیک الخارج عن ملکه، ولا یعار، ولا یرهن لاقتضائهما الملک۔  درر ۔(۵۳۶/۶ ، کتاب الوقف ، البحر الرائق : ۳۴۲/۵ ، کتاب الوقف)

(فتح القدیر : ۲۰۵/۶ ، کتاب الوقف) فقط

 والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۶/۱۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔