ووٹر کی انگشت پر روشنائی مانع وضوہے یانہیں؟

مسئلہ:

ووٹنگ کے وقت حکومتی انتخابی عملہ ووٹر کی انگشت پر روشنائی لگاتا ہے، تاکہ ووٹر دھوکہ دے کر دوبارہ ووٹ نہ ڈال سکیں، انگشت پر لگائی جانے والی یہ روشنائی دھونے پر بھی آسانی سے نہیں نکلتی، بلکہ کئی دنوں تک باقی رہتی ہے، اس کے انگلی پر لگے رہنے کی حالت میں وضو وغسل صحیح ہے، کیوں کہ وہ تہہ دار نہ ہونے کی وجہ سے وضو اور غسل میں بدن تک پانی پہنچنے کو نہیں روکتی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : لا یضر بقاء أثر کلون وریح۔(۵۳۷/۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، بیروت)

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : (وشرط صحته) أي الوضوء (ثلاثة) ۔۔۔۔۔۔ الثالث زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد لجرمه الحائل کشمع وشحم قید به لأن بقاء دسومة الزیت ونحوه لا یمنع لعدم الحائل۔ (ص:۶۲، کتاب الطهارة)

ما في ” البحر الرائق “ : لو صبغ ثوبه أو یده بصبغ أو حناء نجسین فغسل إلی أن صفا الماء یطهر مع قیام اللون۔ (۴۱۱/۱، فتح القدیر: ۲۰۹/۱)

 (کتاب المسائل : ۱۳۶/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔