مسئلہ:
بسا اوقات کسی ٹیکنیکل غلطی کی وجہ سے موبائل فون وقت مقررہ سے زائد چلتا ہے، جو کمپنی کے قانون کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے، مثلاً 15 / جنوری تک کا وقت ہے، پھر بھی مذکورہ تاریخ پر موبائل فون کی سروس منقطع نہیں ہوئی، تو دیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ فوراً موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے اس ٹیکنیکی غلطی پر اسے مطلع کریں، اور مقررہ مدت کے بعد جس قدر بھی موبائل کا استعمال ہوا ہے، اس کی اجرت کمپنی کے کھاتے میں جمع کرادے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم﴾۔ (سورة النساء : ۲۹)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : ﴿لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾ نهی لکل أحد عن أکل مال نفسه ومال غیره بالباطل، وأکلُ مال نفسه بالباطل انفاقه في معاصي الله، وأکل مال الغیر بالباطل ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال ابن عباس والحسن: أن یأکله بغیر عوض۔ (۲۱۶/۲)
ما فی ” الحدیث النبوی “ : عن أبی حرة الرقاشی عن عمه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لایحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔
(مشکوة المصابیح: ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریة، جمع الجوامع: ۷/۹، رقم الحدیث: ۲۶۷۵۹)
ما فی ” درر الحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنه۔(۹۶/۱، رقم المادة: ۹۶)
