مسئلہ:
بہت سے اچھے بھلے دیندار لوگ جو نماز روزہ کے پابند ہیں اور مجموعی اعتبار سے حلال وحرام ، جائز وناجائز کی بھی فکر رکھتے ہیں، ٹریفک کے قواعد کی بلا جھجک خلاف ورزی کرتے ہیں، اوران کے ضمیر پر نہ اس کا بوجھ ہوتا ہے، نہ اس طرزِ عمل کو غلط یا گناہ سمجھتے ہیں، چنانچہ غلط سمت میں سفر کرنا، رکنے کے سرخ اشارات پر نہ رکنا، پورے راستہ کو گھیر کر چلنا، راستہ پر چلتے ہوئے ہنسی مذاق کرنا، راستہ پر پان، گٹکھا یا تمباکو کھاکر تھوکنا وغیرہ کو گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا ،جب کہ شرعاً یہ تمام چیزیں سخت گناہ ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین آمنوا أطیعوا الله وأطیعوا الرسول وأولي الأمر منکم﴾۔ (سورة النساء :۵۹) ﴿ویسعون فی الأرض فساداً ، والله لا یحب المفسدین﴾۔ (سورة المائدة: ۶۴) ﴿أوفوا بالعهد ، إن العهد کان مسوٴلا﴾۔ (سورة الإسراء: ۳۴)
ما فی ” الشامیة “ : قال فی المعراج: لأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة۔ (۱۷۲/۲)
