مسئلہ:
اگر ٹرین کے کسی ڈبے میں پانی ختم ہوجائے اور قریب کے ڈبے جہاں تک وہ جاسکتا ہے،وہاں بھی پانی نہیں ہے ،اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے کوئی ایسا اسٹیشن بھی آنے والا نہیں ہے ، جہاں ٹرین اتنی دیر رکے ، جس میں وضو کیا جاسکے، یا پانی لیا جاسکے ،تو شرعاً تیمم کی اجازت ہوگی، خواہ ٹرین کے گذرتے ہوئے باہر پانی نظر آرہا ہو، کیوں کہ وضو کے واجب ہونے کیلئے پانی کا موجود ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ اس کے استعمال پر قدرت شرط ہے، اسی لئے حضرات فقہاء کرام نے پانی کے موجود ہونے کے باوجود اس کے استعمال پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تیمم کو جائز قرار دیا ہے۔(۱)
رہا سوال کہ تیمم کس سے کریں ؟ تو جواباً عرض ہے کہ ٹرین کی بیرونی دیواروں پر؛ کیوں کہ غالباً وہ غبار آلود ہوتی ہیں، اگرٹرین کی سیٹ یا اندرونی دیوارغبار آلود ہو، تو اس پر بھی تیمم کیا جاسکتا ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” شرح الوقایة “ : هو لمحدث وجنب وحائض ونفساء لم یقدروا علی الماء، أي علی ماء یکفي لطهارته۔ (۸۷/۱۔۸۸ ، کتاب الطهارة، باب التیمم)
ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : العذر المبیح للتیمم ۔۔۔۔ (خوف عدوّ) آدمی أو غیره سواء خافه علی نفسه أو ماله أ وأمانته أو خافت فاسقاً عند الماء أو خاف المدیون المفلس الحبس (وعطش) سواء خافه حالاً أو مآلاً علی نفسه۔ (ص:۱۱۶، باب التیمم)
ما فی ” التصحیح والترجیح علی مختصر القدوري “ : ومن لم یجد الماء وهو مسافر أو کان خارج المصر بینه وبین المصر نحو المیل أو أکثر أو کان یجد الماء إلا أنه مریض یخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو خاف الجنب إن اغتسل بالماء یقتله البرد أو یمرضه فإنه یتیمم بالصعید۔ (ص:۱۴۵، باب التیمم)
(۲) ما فی ” الهدایة والبدائع “ : وکذا یجوز بالغبار مع القدرة علی الصعید عند أبی حنیفة ومحمد، لأنه تراب رقیق۔
(۳۴/۱، کتاب الطهارة، باب التیمم، بدائع الصنائع:۳۴۰/۱۔۳۴۱، کتاب الطهارة)
ما فی ” الشامیة “ : ولو أن الحنطة أو الشيء الذي لا یجوز علیه التیمم إذا کان علیه التراب فضرب یده علیه وتیمم إن کان یستبین بمده علیه جاز وإلا فلا۔
(۴۰۶/۱، باب التیمم، تبیین الحقائق:۱۲۳/۱، الفتاوی التاتارخانیة: ۱۴۴/۱)
