ٹیچر (Teacher)کا سرکاری اسکول میں طلبا کو ملنے والی کھچڑی ہیڈماسٹر (Head Master)کی اجازت سے کھانا

(فتویٰ نمبر: ۱۶۵)

سوال:

زید ایک عصری تعلیمی ادارے سے ڈی ایڈ (D.Ed) کرچکا ہے اوراب انٹرن شپ (Internship) کے مرحلے میں ہے، جس میں اسے ایک ایسے دیہات کے اسکول(School) میں تدریسی خدمات انجام دینی ہے، جہاں کھانے کا کوئی نظم، مثلاً: ہوٹل (Hotel)وغیرہ نہیں ہے،نیز صبح صبح میز والا بھی کھانا دینے پر تیار نہیں ہے، تو کیا زید کے لیے اسکول (School) کی وہ کھچڑی کھانا جائز ہے، جو سرکار کی طرف سے بچوں کے لیے بنائی جاتی ہے، جب کہ اسکول کا ہیڈماسٹر(Head Master) اس کی اجازت دے رہا ہو، اگر نہیں تو کیا یہ درست ہے کہ کھانے کے بعد اس کے معاوضے کے طور پر کچھ رقم اسکول میں جمع کردی جائے یا صدقہ کردی جائے ۔

الجواب وباللہ التوفیق:

زید کے لیے ہیڈ ماسٹر (Head Master) کی اجازت کے بعد بھی اس کھچڑی کا کھانا جائز نہیں ہے(۱)، کیوں کہ گورنمنٹ (Government) کی جانب سے اسکولی بچوں کے لیے جو کھچڑی دی جاتی ہے وہ انہی کا حق ہے، اسکول کے ہیڈماسٹر (Head Master)کی حیثیت محض امین ومنتظم کی ہے، مالک کی نہیں(۲)، زید کا یہ عذر کہ وہاں کھانے کا کوئی نظم نہیں، ایسا عذر نہیں جو دوسرے کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر کھانے کو مباح کردے(۳)؛اس لیے کہ زید جس جگہ انٹرن شپ (Internship)کے مرحلے میں ہے وہاں خواہ کھانے کا کوئی نظم نہ ہو، لیکن کھانے کی چیزیں تو ضرور دستیاب ہوں گی وہ کھالیاں کریں، یا وہاں جانے سے پہلے شام کو ہی کھانے کا نظم کرلیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَکُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)

ما في ” البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي “ : والباطل هو کل طریق لم تبحه الشریعة، فیدخل فیه السرقة والخیانة والغصب والقمار، وعقود الربا وأثمان البیاعات الفاسدة ۔

(۳۲۲/۳)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إَنَّ اللّٰه یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُوَٴدُّوا الأٓمَانٰتِ إِلیٰٓ أَهلِها﴾ ۔ (سورة النساء : ۵۸)

ما في ” أحکام القرآن للتھانوي “ : الآیة بعموم لفظها یفید وجوب أداء کل أمانة إلی أهلها ، ولیس أداء الأمانات منحصرًا في مال الودیعة ونحو ذلک ، بل کل حق لأحد أمانة یجب أداء ه لأهله ۔ (۲۹۰/۲)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : قال النبي ﷺ: ” أدّ الأمانة إلی من ائتمنک، ولا تخن من خانک “ ۔(۲۹۲/۲ ، رقم : ۱۲۶۴)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : یقول العلماء : حفظ الأمانة یوجب سعادة الدارین ، والخیانة توجب الشقاء فیها ، والحفظ یکون بحسب کل أمانة ، فالودیعة مثلا یکون حفظها بوضعها في حرز مثلها ۔ (۲۳۷/۶)

(۳) ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه ۔ (۹۶/۱ ، المادة : ۹۶)

ما في ” رد المحتار “ : التصرف في مال الغیر حرام ، فیجب التحرز عنه ۔(۳۷۳/۷ ، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱/۱۶ھ

اوپر تک سکرول کریں۔