ٹی وی یا موبائل کے ذریعہ آیتِ سجدہ سننے کا حکم

مسئلہ:

ٹی وی پر جو قرآن کریم کی تلاوت نشر کی جاتی ہے عام طور سے پہلے اس کو ریکارڈ کر لیا جاتا ہے، اور اس کے بعد ٹی وی (T.V) پر نشر کیا جاتا ہے، تو اس صورت میں آیتِ سجدہ سننے والوں پر سجدہٴ تلاوت واجب نہیں ہوگا(۱)، یہی حکم موبائل میں محفوظ آیتِ سجدہ کو سننے کا ہے، ہاں اگر کسی پروگرام میں براہِ راست قاری کی آواز سنائی جارہی ہو، یا براہِ راست موبائل فون سے آیتِ سجدہ سنی جائے ، تو سجدہٴ تلاوت واجب ہوگا۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : لا تجب إذا سمعها من طیر وهو المختار ۔۔۔۔۔۔ وإن سمعها من الصدی لا تجب علیه ۔ کذا فی الخلاصة ۔

(۱۳۲/۱، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوة ، الدر المختار مع الشامیة : ۵۰۹/۲ ، باب سجود التلاوة)

ما فی ” نفع المفتي والسائل المعروف به مجموعة المسائل “ : الاستفسار : سمع آیة السجدة من طوطی هل تجب ؟ الاستبشار : لا تجب ، وهو المختار ۔ کذا في فتاوی عالمکیر ۔

(ص/۳۷۶ ، ط : مکتبه صدیقیه ٹانڈا)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : فوجد سماع تلاوة صحیحة فتجب السجدة بخلاف السماع من الببغاء والصدی فإن ذلک لیس بتلاوة۔(۴۴۰/۱،فصل فی بیان من تجب علیه السجدة)

(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : یجب بسبب تلاوة آیة ۔۔۔۔۔۔۔ بشرط سماعها فالسبب التلاوة والسماع ، وإن لم یوجد السماع کتلاوة الأصم ، والسماع شرط فی حق غیر التالی۔(۵۰۳/۲ ، باب سجود التلاوة)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : وأما سبب وجوب السجدة فسبب وجوبها أحد شیئین؛ التلاوة أو السماع، کل واحد منهما علی حاله موجب۔

(۴۳۰/۱ ، فصل فی سبب وجوب السجدة التلاوة)

(فتاوی محمودیه: ۴۷۲/۷، خیر الفتاوی :۶۵۵/۲، فتاوی حقانیه:۳۳۸/۳، فتاوی دار العلوم :۴۲۵/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔