پرانی قبروں میں دوسرے مُردوں کو دفن کرنا، یا اس زمیں پر کاشت کرنا

مسئلہ:

اگر قبرستان کسی شخص کا ذاتی ہے، جیسے بعض مقامات پر لوگ اپنی ذاتی ملک میں اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں، اور وہ اراضی یعنی زمین اپنی ملک سے خارج نہیں کرتے، اور نہ دوسروں کو دفن کی عام اجازت دیتے ہیں، ایسے مقابر میں اگر قبریں پرانی ہوجائیں اور لاش کے مٹی ہوجانے کا گمانِ غالب ہوجائے، تو پھر ایسی پرانی قبروں کی جگہ پر نہ صرف یہ کہ دوسرے مردوں کو دفن کرنا جائز ہوگا، بلکہ اس پر کاشت کرنا اور تعمیر کرنا بھی درست ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو بلی المیت وصار تراباً جاز دفن غیره فی قبره وزرعه والبناء علیه ۔ کذا فی التبیین ۔

(۱۶۷/۱، کتاب الصلاة، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس فی الدفن والنقل، تبیین الحقائق :۵۸۹/۱ ، باب الجنائز، البحر الرائق :۳۴۲/۲ ، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوٰته، الدر المختار مع الشامیة :۱۳۶/۳، باب صلوٰة الجنائز، مطلب فی دفن المیت)

اوپر تک سکرول کریں۔