مسئلہ:
ملازمین اپنی تنخواہوں میں سے ماہانہ کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے خود اپنے اختیار سے کٹواتے ہیں، ادارہ ان کو مجبور نہیں کرتا ہے، اور یہ رقم نوکری چھوڑنے پر اضافہ کے ساتھ انہیں ادا کردی جاتی ہے، اس صورت میں جتنی رقم کاٹی گئی ہے اتنی ہی رقم کا لینا حلال ہے، اس سے زیادہ لینے میں سود کا شبہ اور سود کا ذریعہ بنالینے کا اندیشہ ہے، اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (۱)
اب جتنی رقم جمع ہوئی ہے اگر وہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے، یا یہ ملازم پہلے سے صاحب نصاب ہے، تو سالانہ اس فنڈ میں جمع شدہ رقم کی بھی زکوٰة دینا لازم ہوگا (۲)، کیوں کہ جب ملازم نے خود اپنے اختیار سے رقم ادارے کی تحویل میں دیدیا، تو گویا ادارہ ملازم کا وکیل ہوا، اور وکیل کا قبضہ موٴکل کا قبضہ شمار ہوتا ہے ۔ (۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی” القرآن الکریم “:﴿أحل الله البیع وحرم الربا﴾ ۔ (سورة البقرة:۲۷۵)
ما فی ” بذل المجهود “ : قال رسول الله ﷺ : ” إن الحلال بین وإن الحرام بین وبینهما أمور مشتبهات “ (وفی حدیث) ” لا یعلمها کثیر من الناس، فمن اتقی الشبهات استبرأ دینه وعرضه، ومن وقع فی الشبهات وقع فی الحرام “۔ ویدخل فی هذا الباب معاملة من کان فی ماله شبهة أو خالطه رباً، فإن الإختیار ترکها إلی غیرها ، ولیس بمحرم علیه ، ذلک ما لم یتیقن أن عینه حرام أو مخرجه من حرام ۔ (۱۱/۱۱– ۱۴، کتاب البیوع ، رقم الحدیث:۳۳۲۹–۳۳۳۰)
ما فی ” المقاصد الشرعیة “:إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرماً ، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجباً ۔ (ص:۴۶)
ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : وکل ما أدی إلی ما لا یجوز لا یجوز۔(۵۱۹/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی اللبس)
(۲) ما فی ” خلاصة الفتاوی “ : الزکوٰة إنما تجب إذا ملک نصاباً تاماً ۔ (۲۲۵/۱،کتاب الزکوٰة)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وأما شروط وجوبها ۔۔۔۔۔۔ کون المال نصاباً ۔(۱۷۳/۱،کتاب الزکوٰة، الفتاوی التاتارخانیة:۲/۲، تبیین الحقائق:۱۹/۲)
(۳) ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : لأن الوکیل في حق الحقوق بمنزلة المالک۔(۳۲۶/۴، کتاب الوکالة)
