پراپرٹی بروکر بزنس(Property broker business)

مسئلہ:

کچھ لوگ پراپرٹی بروکر بزنس (Property broker business) کرتے ہیں، وہ اپنے پیسے نہیں لگاتے، محض ثالثی یعنی تھرڈ پارٹی کا رول ادا کرتے ہیں، دلالی کی اجرت فی نفسہ جائز ہے، اور دلال کے لیے پراپرٹی بیچنے والے اور خریدنے والے – دونوں سے اجرت لینا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ دلال پہلے سے اپنی اجرت طے کرلے، خواہ فیصد کے طور پر یا متعینہ رقم کے طور پر(۱)۔بعض دلال پراپرٹی خریدنے والے شخص کو بیچنے والے شخص کی مقرر کردہ رقم سے زائد بتلاکر – اس سے پوری رقم وصول کرتے ہیں، اس میں سے اصل قیمت بیچنے والے شخص کو ادا کرتے ہیں، اور بقیہ خود رکھ لیتے ہیں، اس طرح حاصل ہونے والا مال ، مالِ خبیث ہے، اسے اصل مالک یعنی پراپرٹی خریدنے والے کو واپس کرنا واجب ہے، اور یہ ممکن نہ ہو تو صدقہ کردینا ضروری ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الشامیة “ : وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرة التعامل، وکثیر من هذا غیر جائز فجوّزوه لحاجة الناس إلیه۔

(۸۷/۹، کتاب الإجارة، باب ضمان الأجیر، مطلب في أجرة الدلال، خلاصة الفتاوی:۱۱۶/۳، کتاب الإجارات، الفصل الثاني في صحة الإجارة وفسادها، جنس آخر في المتفرقات الخ، الفتاوی الهندیة: ۴۵۰/۴ ،کتاب الإجارة، مطلب الاستئجار علی الأفعال المباحة، المبسوط للسرخسي:۱۲۸/۱۵، کتاب الإجارات، باب السمسار)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وأما الدلال فإن باع العین بنفسه بإذن ربها فأجرته علی البائع وإن سعی بینهما وباع المالک یعتبر العرف ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (یعتبر العرف) فتجب الدلالة علی البائع أو المشتري أو علیهما بحسب العرف۔ (۹۳/۷، مطلب فساد المتضمن یوجب فساد المتضمن، بیروت)

(۲) ما في ” بذل المجهود “ : صرّح الفقهاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق ، فأما أن یکون کسبه بعقد فاسد، کالبیوع الفاسدة والاستئجار علی المعاصي والطاعات، أو بغیر عقد کالسرقة والغصب والخیانة والغلول، ففي جمیع الأحوال المال الحاصل له حرام علیه، ولکن إن أخذه من غیر عقد ولم یملکه یجب علیه أن یرده علی مالکه إن وجد المالک، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیه أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء۔ (۳۵۹/۱، کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، تحت رقم الحدیث:۵۹)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۸۵۲۵)

اوپر تک سکرول کریں۔